مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 47
94 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 93 مسلم نوجوانوں کے نامے نہیں ڈالتے تھے بلکہ فتنہ انگیز باتوں کو خود بخود ظاہر کر دیتے تھے۔خواہ وہ ان کے عزیز سے عزیز کے منہ سے کیوں نہ نکلی ہوں۔اور جس طرح ایسی باتوں کا اظہار اور ذمہ دار لوگوں تک ان کا پہنچنا ضروری ہے اس طرح قومی ترقی کے لیے ایسی باتوں کو چھپانا بھی ضروری ہوتا ہے جن کا اظہار دشمن کے لیے مفید ہو سکتا ہو۔اور اس وجہ سے ان کا چھپانا ضروری ہو اور یہ چیز بھی صحابہ کرام کی زندگیوں میں نہایت نمایاں نظر آتی ہے۔ذیل میں اس کی چند ایک مثالیں درج کی جاتی ہیں۔-1- حضرت عبداللہ بن ارقم ایک نو جون صحابی تھے۔جو مراسلات تحریر کیا کرتے تھے۔پوشیدہ سے پوشیدہ مراسلات ان کی تحویل میں رہتے تھے۔مگر وہ خود بھی کبھی ان کو کھول کر بلاضرورت نہ پڑھتے تھے۔چہ جائیکہ کسی کو ان کے مضمون سے آگاہ کریں۔2۔حضرت انس آنحضرت ﷺ کے خادم تھے۔اور باوجود یہ کہ آپ کی عمر آٹھ دس سال کی تھی آپ حضور کے کاموں میں انتہائی رازداری سے کام لیتے تھے۔ایک دفعہ حضور کی خدمت سے فارغ ہو کر گھر کو روانہ ہوئے۔راستہ میں بچے کھیل رہے تھے۔آپ بھی بتقاضائے عمر کھیل دیکھنے میں مشغول ہو گئے۔کہ اتنے میں آنحضرت ﷺ تشریف لے آئے۔لڑکوں نے انہیں بتایا کہ حضور ﷺ تشریف لا رہے ہیں۔حضور جب قریب پہنچے تو حضرت انس کا ہاتھ پکڑ کر ان کو علیحدہ لے گئے اور ان کے کان میں کچھ ارشاد فرمایا جسے سن کر حضرت انس وہاں سے چلے گئے۔اور آنحضرت ﷺ آپ کے انتظار میں وہیں تشریف فرمار ہے۔حضرت انس فارغ ہو کر واپس آئے اور حضور کو جواب سے آگاہ فرمایا۔جسے سن کر حضور یہ واپس تشریف لے گئے اور حضرت انس گھر چلے گئے۔اور اس غیر معمولی کام کی وجہ سے چونکہ گھر واپس آنے میں معمول سے تاخیر ہوگئی تھی۔والدہ نے تاخیر کی وجہ پوچھی تو حضرت انس نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے ایک کام پر بھیجا تھا۔اس لیے دیر ہوگئی۔اور چونکہ آپ ابھی بچے تھے والدہ نے اس خیال سے کہیں یہ بہانہ ہی نہ ہو کہا کہ کس کام پر بھیجا تھا۔حضرت انس نے جواب دیا کہ وہ ایک خفیہ بات تھی۔جو افسوس ہے کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔والدہ کی سعادت دیکھیے کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ خود دریافت کرنے پر اصرار نہیں کیا بلکہ تاکید کہ کہ کسی اور سے بھی اس کا ذکر ہر گز نہ کرنا۔غزوہ قریظہ کے موقعہ پر آنحضرت ﷺ نے یہودیوں کا محاصرہ کیا تو یہودیوں نے حضرت ابولبابہ کو قلعہ میں بلوایا کہ آپ سے مشورہ کر کے اپنے مستقبل کے متعلق کوئی فیصلہ کریں۔کیونکہ ان کے خاندان سے پرانے حلیفانہ تعلقات کی بناء پر انہیں حضرت ابولبابہ پر اعتماد تھا اور خیال تھا کہ وہ ضرور ہماری بہتری کی کوئی بات کریں گے۔حضرت ابولبابہ قلعہ میں پہنچے۔تو یہود ان کے جذ بہ رحم کو اپیل کرنے کے لیے اپنے بیوی بچوں کو جو رو پیٹ رہے تھے ان کے سامنے لے آئے۔حضرت ابولبابہ نے ان کو مشورہ دیا کہ آنحضرت ﷺ کے منشاء کے مطابق چلو۔اس میں تمہاری بہتری ہے۔اور ساتھ ہی اپنے گلے کی طرف اشارہ کر کے انہیں یہ بات سمجھائی کہ اگر ایسا نہ کرو گے تو قتل کر دیے جاؤ گے۔یہ اشارہ انہوں نے یہود کے سنگین جرائم اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے دوران میں عہد شکنی کی وجہ سے اپنے اجتہاد سے کیا کیونکہ وہ یہی خیال کرتے تھے کہ ایسے جرائم کی سزا قتل ہی ہے۔کرنے کو تو اشارہ کر گئے لیکن واپسی پر جب یہ خیال آیا کہ میرا یہ اشارہ رازداری کے منافی ہے اور اس طرح اشارہ کر کے میں خدا اور اس کے رسول کے ساتھ ایک گونہ خیانت کا مرتکب ہوا ہوں تو گھبرا گئے اور سوچنے لگے کہ مجھے اس کی تلافی کی کوئی صورت کرنی چاہیے۔اور اپنے خیال سے ہی تلافی کی۔یہ صورت ان کے ذہن میں آئی کہ سیدھے مسجد نبوی میں پہنچے اور ایک موٹی زنجیر لے کر مسجد کے ستون کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ دیا اور کہا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کے حضور میری توبہ قبول نہ ہوگی اور میرا گناہ معاف نہ ہوگا۔اسی طرح بندھا رہوں گا۔ساتھ آٹھ روز اسی طرح بندھے رہے صرف نماز اور حوائج بشری سے فراغت کے لیے آزاد ہوتے اور فارغ ہوتے ہی ان کے حکم کے ماتحت ان کی لڑکی پھر اسی طرح باندھ دیتی غم کی وجہ سے کھانا پینا بالکل چھوٹ گیا۔مسلسل فاقہ کشی اور اذیت برداشت کرنے کی www۔alislam۔org