مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 44
مسلم نوجوانوں کے رنامے 87 احساس جاتا رہا اور آپ نے فوراً جواب دیا کہ میرا اور تیرا دونوں کا خدا اللہ تعالیٰ ہے۔اس پر صفوان کو سخت طیش آیا اور اس نے اس زور کے ساتھ آپ کا گلا گھونٹا کہ آپ نیم مردہ نظر آنے لگے۔آپکا ایک بھائی بھی اس ایذا دہی کے وقت پاس تھا مگر وہ بجائے آپ کے ساتھ کسی ہمدردی کے اظہار کے الٹا صفوان کو ایذ میں اضافہ کرنے پر ابھار رہا تھا۔11 - عتبہ اسلام اور آنحضرت ﷺ کے معاندین کی صف اول میں تھا۔جنگ بدر کے موقعہ پر جب وہ شمشیر بکف میدان میں نکلا تو اس کے مقابلہ کے لیے اس کے فرزند حضرت ابو حذیفہ جو اسلام قبول کر چکے تھے آئے۔چنانچہ ان کی بہن ہندہ نے یہ دیکھ کر ان کی ہجو میں شعر پڑھے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ تو بہت ناشکرا ہے۔کہ جس باپ نے تجھے پال پوس کر جوان کیا آج اس سے نبرد آزما ہور ہا ہے مگر آپ نے ان باتوں کی مطلقا کوئی پرواہ نہ کی اور غیرت کے نقاضہ کو پورا کیا۔12 - صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب معاہدہ تحریر کیا جارہاتھا تو کفار کے نمائندہ نے اصرار کیا کہ آنحضرت ﷺ کے نام کے ساتھ ”رسول اللہ کا لفظ نہ لکھا جائے اور آپ نے اس شرط کو منظور کرتے ہوئے حضرت علی کو حکم دیا کہ یہ جملہ مٹا دیا جائے۔باوجود یکہ صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کے ہر ارشاد کی تعمیل اپنے لیے ذریعہ سعادت دارین سمجھتے تھے مگر آپ کی غیرت ایمانی نے اس بات کو برداشت نہ کیا کہ اپنے ہاتھ سے اسے قلمزن کریں۔اور خود الله آنحضرت ﷺ نے اپنے دست مبارک سے یہ جملہ کاٹ دیا۔13 - حضرت خبیب کو جب مشرک شہید کرنے لگے تو آپ نے نہایت اطمینان کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کی۔اور ان سے کہا کہ میرا ارادہ تو نماز کو بہت طول دینے کا تھا مگر اس خیال سے کہ تم لوگ یہ خیال نہ کرو کہ موت سے ڈرتا ہوں اسے مختصر کر دیا ہے اور پھر بعض شعر پڑھنے لگے۔جن کا مطلب یہ ہے کہ جب میں مسلمان ہو کر مرتا ہوں تو اس کا کیا خوف کہ میرا دھڑ کس طرف گرتا ہے اور سرکس طرف۔یہ مرنا خدا کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے تو مسلم نوجوانوں کے کارنامے میرے بریدہ اعضاء پر برکت نازل کر سکتا ہے۔88 14- قریش کی ستم را نیاں صرف غریب اور بے کس مسلمانوں تک ہی محدود نہ تھیں بلکہ صاحب اثر ورسوخ مسلمان بھی اس سے بچے ہوئے نہ تھے۔حتی کہ حضرت ابو بکر بھی ان کے مظالم سے محفوظ نہ تھے۔جب مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو حضرت ابو بکر بھی ہجرت کے ارادہ سے نکلے لیکن مکہ سے تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ ایک مشرک ابن الدغنہ سے ملاقات ہوئی۔اس نے دریافت کیا کہ کہاں کا ارادہ ہے۔آپنے فرمایا کہ میری قوم نے مجھے جلا وطن کر دیا ہے۔اس نے کہا کہ تم مفلس لوگوں کی دستگیری کرتے ہو۔قرابت داری کا خیال رکھتے ہو۔مہمان نوازی کرتے ہو۔مصیبت زدگان کی امداد کرتے ہو۔تمہارے جیسا آدمی جلا وطن نہیں کیا جاسکتا۔تم واپس چلو اور میری امان میں رہو۔چنانچہ آپ اس کے ساتھ واپس آگئے۔ابن الدغنہ نے اعلان کر دیا کہ میں نے ابوبکر کو امان دی ہے۔اور قریش نے اسے تسلیم کر لیا۔اور کہا کہ ابو بکر کو اپنے گھر میں نماز و قرآن پڑھنے کی اجازت ہے۔حضرت ابو بکر اپنے مکان کے صحن میں نماز ادا کرتے اور بآواز بلند تلاوت قرآن کریم کرتے تھے۔قریش کو اس پر اعتراض ہوا کیونکہ آپ کی آواز میں اس قدر رقت تھی اور تلاوت ایسے درد اور سوز کے ساتھ کرتے تھے کہ سننے والوں کے دل میں آپ کی پر سوز آواز اترقی جاتی تھی۔اور قریش کو خطرہ تھا کہ ارد گرد کے گھروں میں رہنے والی عورتیں اور بچے اس سے متاثر ہو جائیں گے۔اس لیے انہوں نے ابن الدغنہ کے پاس شکایت کی کہ ابوبکر بلند آواز سے قرآن پڑھتے ہیں۔جس سے ہمیں اپنی عورتوں اور بچوں کے متعلق خطرہ ہے کہ وہ متاثر نہ ہو جائیں۔ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ یا تو ایسا نہ کرو اور یا پھر مجھے اپنی حمایت سے بری الذمہ سمجھو۔حضرت ابو بکر کی غیرت ایمانی نے کسی مداہنت کو گوارا نہ کیا اور نہایت استغناء کے ساتھ اسے کہہ دیا کہ مجھے تمہاری پناہ کی حاجت نہیں۔میرے لیے اللہ ورسول کی پناہ کافی ہے۔www۔alislam۔org