مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 41 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 41

مسلم نوجوانوں کے ی کارنامے غیرت ایمانی 81 1- حضرت ابوبکر کی خلافت کے ابتداء میں جو فتنہ ارتداد اٹھا تھا جب وہ فرو ہوا اور باغی مقتل میں لائے گئے تو ایک نو جوان حضرت امرء القیس کے ایک چا بھی ان میں تھے۔آپ خود ان کو قتل کرنے کے لیے آگے بڑھے تو اس نے کہا کہ کیا تمہارا ہاتھ اپنے چا پر اٹھ سکتا ہے اور تمہاری تلوار اپنے باپ کے بھائی کی گردن پر چل سکتی ہے۔تم مجھے قتل کرو گے۔آپ نے جواب دیا کہ بے شک آپ میرے چا ہیں مگر اللہ عز وجل جس کے لیے میں تمہیں قتل کرنا چاہتا ہوں میرا رب ہے۔صلى الله 2۔غزوہ مصطلق سے جب آنحضرت ﷺہ واپس آرہے تھے تو راستہ میں مریسیع کے مقام پر پڑاؤ کیا۔اس جگہ منافقین نے جو ہمیشہ مسلمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے اور اس طرح نخل اسلام کو اس کی ابتدائی حالت میں ہی نفاق و اختلاف کی زہر میں ملی ہوا سے مرجھا دینا چاہتے تھے۔ایک نہایت خطرناک فتنہ کھڑا کرنا چاہا۔جس سے قریب تھا کہ مسلمانوں میں کشت و خون تک نوبت پہنچتی عصبیت کو مٹا کر اسلام نے ان کے اندر جو اخوت پیدا کی تھی اس کا خاتمہ ہوجاتا اور خانہ جنگی شروع ہو جاتی۔اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ حضرت عمر کا ایک ملازم جھجاہ نام چشمہ پر پانی لینے گیا۔انصار میں سے بھی ایک شخص سنان پانی کے لیے وہاں گیا۔دونوں کم علم اور معمولی عقل و سمجھ کے آدمی تھے۔پانی بھرتے بھرتے دونوں میں تکرار ہوگئی اور جھجاہ نے سنان کے ایک ضرب لگا دی۔سنان نے دہائی مچادی اور انصار کو مدد کے لیے پکارا۔جھجاہ نے مہاجرین کو آواز دی اور چشم زدن میں وہاں ایک اچھا خاصہ مجمع ہوگیا اور قریب تھا کہ تلوار میں نکل آئیں اور مسلمان اپنے ہی بھائیوں کے خون سے اپنے ہاتھ آلودہ کر لیتے۔مگر بعض سنجیدہ بزرگوں نے معاملہ رفع دفع کرا دیا۔اور اس طرح یہ فتنہ رک گیا لیکن فتنہ و فساد پیدا کرنے کا ایک زریں موقعہ ضائع ہو جانے کی اطلاع جب مسلم نوجوانوں کے کارنامه 82 منافقین کے سردار عبد اللہ بن ابی بن سلول کو ہوئی تو اس نے پھر اس فتنہ کی آگ کو ہوا دینا چاہی۔اپنے ساتھیوں کو بہت اکسایا اور کہا لئن رجـعـنـا الـى الـمـدينة ليخرجن الاعــز منهـا الاذل یعنی ہمیں مدینہ پہنچنے دوعزت والا شخص یا گروہ ، ذلیل شخص یا گروہ کو وہاں سے نکال دے گا۔یہ سن کر مخلصین کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔اور ان کی تلواریں عبداللہ کے قتل کے لیے بے قرار ہو رہی تھیں کہ عبداللہ کے لڑکے حضرت حباب کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی۔وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور کہا: یا رسول اللہ میں نے سنا ہے کہ میرے باپ نے شرارت کی ہے اور آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا ہے۔اگر میری اطلاع درست ہے تو آپ مجھے حکم دیں کہ میں اپنے باپ کا سرکاٹ کر حاضر کروں۔کیونکہ اگر آپ نے یہ کام کسی اور کے سپرد کیا تو ممکن ہے کسی وقت میری رگ جاہلیت جوش مارے اور میں اس مسلمان کو اپنے باپ کا قاتل سمجھ کر کوئی نقصان پہنچا بیٹھوں۔اور اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالوں۔مگر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ہمارا ہر گز یہ ارادہ نہیں۔اپنے باپ کی اس گستاخی پر حضرت حباب کو اس قدر طیش تھا کہ جب لشکر نے کوچ کیا تو انہوں نے باپ کا راستہ روک لیا اور کہا کہ خدا کی قسم میں تمہیں ہرگز واپس نہ جانے دوں گا، جب تک تم یہ اقرار نہ کرو کہ معزز ترین وجود آنحضرت ﷺ ہیں اور ذلیل ترین تم ہو۔اور اس مطالبہ پر اس قدر اصرار کیا کہ مجبور ہوکر عبداللہ کو یہ الفاظ کہنے پڑے۔4- ستر قاریوں کے ایک وفد کے، ایک قبیلہ کی درخواست پر، تعلیم دین کے لیے بھیجنے کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔بیئر معونہ کے مقام پر کفار نے ان کو گھیرا اور سوائے حضرت منذر بن عمر و کے جو اس وفد کے امیر تھے سب شہید ہو گئے۔حضرت منذر سے کفار نے کہا کہ اگر تم درخواست کرو تو تم کو امان دی جاسکتی ہے۔مگر آپ کی غیرت نے یہ بے قمیتی گوارا نہ کی کہ اپنی جان بچانے کے لیے کفار سے درخواست کریں۔اور بے غیرتی کی اس زندگی پر موت کو تر جیح دی۔زندگی کتنی پیاری چیز ہے۔اس سوال کا جواب ہر شخص کا دل دے سکتا ہے۔www۔alislam۔org