مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 40
80 مسلم نوجوانوں کے نامے 79 راہ نہ دیکھتے ہوئے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور وہاں غربت اور غریب الوطنی کی زندگی کو مکہ کی زندگی پر ترجیح دی۔اور جب آنحضرت ﷺ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو پھر بہت سے لوگ وہاں چلے گئے۔وہاں جا کر ان کو گونا گوں مشکلات کا سامنا ہوا۔آب و ہوا راس نہ آئی۔اور کئی بزرگ بخار میں مبتلا ہو گئے۔صحت برباد ہوگئی کاروبار کا کوئی انتظام نہ تھا گھر بار نہ تھے، وطن عزیز اور مکہ کی وادیوں ، چشموں اور پہاڑیوں کے نظاروں کی یاد ان کو بے تاب کر دیتی تھی۔مگر آفرین ہے ان جواں ہمت لوگوں پر کہ اسلام کی راہ میں ان سب مشکلات کو بخوشی برداشت کیا۔اور زبان سے اف تک نہ کی۔مختصر یہ کہ اسلام قبول کرنے والے جانباز لوگوں کو ظالم وسفاک لوگ سخت دکھ اور اذیتیں پہنچاتے تھے۔اور اس کے لیے طرح طرح کے طریقے ایجاد کرتے رہتے تھے۔اور ستم پر ستم یہ ہے کہ یہ تکالیف کوئی آئی اور وقتی نہ ہوتی تھیں بلکہ ان کا سلسلہ بہت لمبا چلتا تھا۔ایک دفعہ ہی جان دے دینا آسان ہے لیکن مسلسل ظلم برداشت کرنے کے یہ معنی ہیں کہ ہر روز نئی موت قبول کی جائے۔لیکن ہمارے نوجوان صحابہ نے اس موت کو پوری جواں مردی اور جرات کے ساتھ برداشت کیا اور یہ ایک ایسی خصوصیت ہے کہ جو کسی اور قوم کو حاصل نہیں چنانچہ صحابہ کرام جب گئے تو ان کے متعلق اہل کتاب کے ایک عالم نے جو رائے ظاہر کی وہ یہ ہے۔عیسی بن مریم کے وہ متبع جو آروں سے چیرے اور سولی پر لٹکائے گئے ان لوگوں سے زیادہ شام۔تکالیف برداشت کرنے والے نہ تھے (استیعاب جلد 1 صفحہ 2) آج جو لوگ دین کی راہ میں عارضی اور بالکل معمولی سی جدائی بھی برداشت کرتے ہوئے گھبراتے ہیں اور وقتی طور پر بھی تبلیغ اسلام کے لیے گھروں سے نہیں نکلتے ہیں اس لیے تامل کرتے ہیں کہ ان کی عدم موجودگی میں ان کے اہل و عیال کو کوئی معمولی سی تکلیف ہوگی یا کاروبار کو کوئی خفیف سا نقصان پہنچے گا۔یا حالت سفر میں وہ گھر جیسا آرام و آسائش حاصل نہ کر سکیں گے۔وہ صحابہ کرام کے مثیل ہونے کا دعویٰ اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا خیال بھی کس طرح دل میں لا سکتے ہیں۔مسلم نوجوانوں کے ان واقعات سے آپ پر ظاہر ہو گیا ہے کہ صحابہ کرام دین کی راہ میں بھو کے اور پیاسے رہتے تھے۔سامان کی کمی کی وجہ سے سخت تکالیف اٹھاتے تھے۔مگر ان کے قلوب میں ایمان کی اس قدر حرارت موجود تھی کہ جس کے سامنے مصائب کے پہاڑ بھی پگھل کر بہ جاتے تھے اور کوئی چیز ان کے مجاہدانہ اقدام میں حائل نہ ہو سکتی تھی۔آج زمانہ بالکل مختلف ہے انسانی تمدن میں بہت حد تک تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔اور گو علمبرداران صداقت کو آج بھی پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے مگر آج ان کی نوعیت بدل چکی ہے اور شدت میں بہر حال کمی آچکی ہے۔دوسری طرف اسلام کی حالت ہم سے یہ تقاضا کر رہی ہے کہ اسے سر بلند کرنے اور اس کی صحیح تصویر کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے پورے جوش کے ساتھ میدان عمل میں نکلیں اور مندرجہ بالا سطور کے مطالعہ سے اگر ہمارے نوجوان دین کی خاطر انتہائی قربانی کرنے کے لیے تیار ہو جائیں اور یہ عزم کریں کہ اس راہ میں جو مصائب بھی آئیں گے۔وہ انہیں خوشی سے برداشت کریں گے تو اسلام کی ترقی یقینی ہو جاتی ہے اور اس کے ذریعہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور وہ درجات پائیں گے کہ ان کا نام ابدالا باد تک زندہ رہے گا۔اور جس طرح آج صحابہ کے واقعات پڑھ کر ہمارے دلوں کی عمیق ترین گہرائیوں سے ان کے لیے دعائیں نکلتی ہیں آنے والی نسلوں کے قلوب میں ہمارے لیے محبت کے یہی جذبات موجزن ہوں گے۔ا۔(مستدرک حاکم ج 3 ص 383)۔( ابن سعد ج 3 ص117) حوالہ جات ۲۔(اسد الغابہ ج 1 ص 283) ۴۔(سیر الصحابہ ج 2 ص 42) ۵۔( بخاری کتاب الشروط ) ۶۔( بخاری کتاب المغازی) ۸۔( بخاری کتاب المغازی) ۱۰۔(ابوداؤد کتاب الاطعمه ) ے۔(مسلم کتاب الجہاد ) ۹- (مسلم کتاب الایمان) ا۔(ابن سعد ج 3 ص 82) (اسد الغابہ ج 4 ص 387) ۱۲۔(اسد الغابہ ج 5 ص 249) ۱۳۔(سیر الصحابہ ج 2 ص 42) ؟ ۱۵۔(ابن سعد ج 3 ذکر عبد الرحمان بن عوف) ۱۴۔(ابن سعد ج 8 ص 111) www۔alislam۔org