مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 42 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 42

84 مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 83 مسلم نوجوانوں کے رنامے اور جب یہ پیاری جان محض منہ سے کہہ دینے سے بچائی جاسکتی ہو اور نہ بچائی جائے تو ایمانی غیرت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔چنانچہ مردانہ وارلڑے اور شہادت پائی۔5 جنگ بدر میں جو کفار قید ہوئے ان میں ایک ولید بن ولید مشہور اسلامی جرنیل حضرت خالد بن ولید کے بھائی بھی تھے۔ان سے چار ہزار درہم فدیہ طلب کیا گیا۔جو ان کے بھائیوں نے ادا کر دیا چنانچہ وہ رہا ہو کر مکہ آگئے۔اور یہاں پہنچتے ہی مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔اس پر ان کے بھائی بہت جزبز ہوئے اور کہا کہ اگر تم نے مسلمان ہی ہونا تھا تو پھر یہ فدیہ ادا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔آپ نے جواب دیا کہ ایسا میں نے اس لیے کیا تا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ فدیہ سے بچنے کے لیے مسلمان ہو گیا۔اللہ اللہ کس قدر غیرت ہے۔دل واقعی اسلام قبول کر چکا ہے۔ایمان گھر کر چکا ہے۔ایسے وقت میں ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے سے خاندان کو ایک بہت بڑی مالی سزا سے بھی محفوظ رکھا جاسکتا ہے لیکن غیرت اس کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ کوئی شخص ایمان پر طعنہ زنی کرے۔اور اسے مالی بوجھ سے بچنے کا نتیجہ قرار دے۔مکہ والوں نے آپ کو قید کر دیا اور سخت ایذا ئیں دیں۔مگر تو حید کا نشہ اترنے والا نہ تھا۔آپ بالکل ثابت قدم رہے اور موقعہ پا کر مدینہ بھاگ گئے۔6- حضرت عمیر بن سعد کے والد کا بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا۔آپ کی والدہ نے ایک شخص جلاس نامی سے نکاح کر لیا جو منافق طبع تھا۔اور وہی آپ کی پرورش کرتا تھا۔حضرت عمیر بچپن میں ہی مسلمان ہو گئے تھے۔اور غزوہ تبوک میں باوجود خوردسالی کے شریک ہوئے۔ایک موقعہ پر جلاس نے کہا کہ اگر محمد ﷺ اپنے دعوی میں بچے ہیں تو ہم گدھوں سے بھی بدتر ہیں۔آپ نے یہ بات سنی تو یا رائے ضبط نہ رہا اور فوراً جواب دیا۔کہ آنحضرت ﷺ ضرور بچے ہیں۔اور تم لوگ واقعی گدھوں سے بدتر ہو۔ظاہر ہے کہ جلاس کے لیے یہ بات نا قابل برداشت تھی کہ اس کا ربیب اس طرح اس کے سامنے گستاخانہ جواب دے۔اور حضرت عمیر بھی اس صاف گوئی کے انجام سے بے خبر نہ ہو سکتے تھے۔اور اچھی طرح جانتے تھے کہ جس شخص سے آپ یہ بات کر رہے ہیں وہی آپکا کفیل ہے اور اگر اس نے کفالت سے ہاتھ کھینچ لیا تو کس قدر مشکلات کا سامنا ہوگا۔لیکن غیرت ایمانی نے ان تمام خیالات کو نزدیک نہ آنے دیا۔اور بر ملا وہ بات کہہ دی جو ایمانی غیرت کا تقاضا تھا۔چنانچہ وہی ہوا جس کا ڈر تھا یعنی جلاس نے کہا کہ آئندہ میں ہرگز تمہاری کفالت نہ کروں گا۔مگر آپ نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور فور اور بار نبوی میں رپورٹ پہنچائی۔آنحضرت ﷺ نے جلاس کو بلوا کر دریافت کیا تو اس نے صاف انکار کر دیا۔مگر وحی الہی سے حضرت عمیر کی بات کی تصدیق ہوگئی۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ان کا کان پکڑ کر فرمایا۔لڑکے تیرے کانوں نے ٹھیک سنا تھا۔بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ جماعت کے اندر فتنہ پیدا کرنے والی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ایسی باتیں بالخصوص وہ جو امراء اور خلفاء کے بارہ میں ہوں تو نہایت خطرناک ہوتی ہیں۔صحابہ کی مجالس میں اگر کوئی شخص ایسی بات کرتا تو ان کی غیرت ایمانی ہرگز اس کی متحمل نہ ہو سکتی تھی۔حضرت عمار بن یاسر کا ذکر پہلے آچکا ہے کہ آپ نے بچپن میں اسلام قبول کیا تھا۔ایک مسلمان مطرف نام بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں کوفہ میں گیا اور اپنے ایک دوست کے پاس ٹھہرا۔اس کے مکان پر ایک اور شخص بھی بیٹھا ہوا اپنے چرمی لباس کو پیوند لگا رہا تھا۔میں نے اپنے دوست کے ساتھ حضرت علی کے متعلق بعض ایسی باتیں شروع کیں جو ایک قسم کی نکتہ چینی کا رنگ رکھتی تھیں۔اس پر اس شخص نے سخت برہم ہو کر مجھے کہا کہ اے فاسق کیا امیر المومنین کی مذمت کر رہا ہے۔میرے دوست نے عذر خواہی کی اور کہا کہ جانے دیں میرا مہمان ہے اور اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ وہ شخص عمار بن یاسر تھے۔افسوس ہے کہ ہمارے زمانہ میں اس قسم کی ایمانی غیرت کے اظہار کو تہذیب کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔اور بعض لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے اس قسم کی فتنہ انگیزی کی باتیں سن کر www۔alislam۔org