مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 39
78 مسلم نوجوانوں کے کارنامه 77 مسلم نوجوانوں کے نامے 11 - حضرت مصعب بن عمیر مکہ کے ایک مالدار گھرانہ کے چشم و چراغ تھے اور اس لیے اس قدر ناز و نعم میں پرورش پائی تھی کہ مکہ میں اس لحاظ سے کوئی ثانی نہ رکھتے تھے۔عمدہ سے عمدہ لباس پہنتے اور اعلی سے اعلی خوراک کھاتے تھے۔نہایت بیش قیمت خوشبوئیں اور عطریات استعمال میں لاتے تھے غرضیکہ نہایت آسائش کی زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے کھانے پینے اور پہننے کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے۔لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد ایک عرصہ تک تو اسے پوشیدہ رکھا۔آخر ایک روز ایک مشرک نے انہیں نماز پڑھتے دیکھ لیا۔اور آپ کی ماں اور خاندان کے دوسرے لوگوں کو خبر کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو قید میں ڈال دیا گیا۔آپ ایک عرصہ تک قید و بند کے مصائب نہایت صبر کے ساتھ برداشت کرتے رہے اور موقعہ ملنے پر ترک وطن کر کے حبشہ کی راہ لی۔اس قدر پر تکلف زندگی کے عادی نوجوان کو قید اور غریب الوطنی میں جس قدر مصائب کا سامنا ہو سکتا ہے ان کے بیان کی ضرورت نہیں۔لیکن ایمان نے دل پر ایسا اثر کر رکھا تھا کہ کسی مصیبت نے ان کو مغلوب نہیں کیا اور پائے استقلال میں کبھی ذرہ بھر لغزش نہ آئی۔12 - حضرت ابو فلکیہ صفوان بن امیہ کے غلام تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔صفوان اور دوسرے کفار ان کو طرح طرح کی تکالیف دیتے تھے۔ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر زمین پر لٹا دیتے۔اور اوپر وزنی پتھر رکھ دیتے تھے۔تا کہ حرکت نہ کر سکیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کا دماغ مختل ہو جاتا۔سفاک ان کے پاؤں میں رسہ باندھتے اور گرم زمین پر گھسیٹتے ہوئے لیے پھرتے تھے مگر وہ نہایت صبر کے ساتھ ان کی سختیوں کو برداشت کرتے اور کبھی یہ خیال دل میں نہ لاتے تھے کہ اپنی جان کو مصیبت سے بچانے کے لیے کسی مداہنت سے کام لیں۔13 - حضرت زبیر بن عوام جب اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے تو آپ کے چچانے کوشش کی کہ جبر و تشدد کے ذریعہ ان کو ارتداد اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔چنانچہ وہ بد بخت آپکو ایک چٹائی میں لپیٹ کر ناک میں دھواں پہنچا تا تھا۔-14 - محمل وشدائد کے ضمن میں باوجود یکہ اس جلد میں صحابیات کا ذکر مقصود نہیں تا ہم حضرت ام شریک کا ذکر کیے بغیر ہم نہیں رہ سکتے۔جب آپ ایمان لائیں تو ان کے اقارب نے ان کو ایذا دینی شروع کی اور اس کے لیے یہ طریق ایجاد کیا کہ انہیں دھوپ میں کھڑا کر دیتے اور اس سخت گرمی کے ساتھ شہد ایسی گرم چیز کھلاتے اور پانی بالکل نہ دیتے تھے۔ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا کہ آپ کے حواس مختل ہو جاتے۔ایسی حالت میں ان سے کہتے کہ اسلام چھوڑ دو۔مگر ان کی سمجھ میں کچھ نہ آتا۔سمجھانے کے لیے وہ آسمان کی طرف اشارہ کرتے تو وہ سمجھ جاتیں کہ توحید کا انکار کرانا چاہتے ہیں۔مگر آپ جواب دیتیں کہ یہ ہرگز نہ ہوگا۔صحابہ کرام نے دین کی راہ میں جو شدائد اور مصائب برداشت کیے ان میں ہجرت کی داستان نهایت دردانگیز ہے۔اپنے گھر بار اور وطن عزیز کے ساتھ تمام عزیز واقارب حتی کہ مال و اسباب کو بھی چھوڑ دینا بیوی بچوں سے منہ موڑ لینا کوئی آسان بات نہ تھی۔لیکن صحابہ کرام نے یہ سب کچھ چھوڑا۔اور ایسا چھوڑا کہ پھر واپسی کی خواہش بھی ان کے دل میں پیدا نہ ہوتی تھی۔چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف اگر کبھی مکہ میں آتے تھے تو اپنے قدیم مکان میں اترنا تک پسند نہ کرتے تھے۔ہر شخص اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچے تو اسے معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ کتنا مشکل کام ہے۔کوئی ایک دن کے لیے بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ بیوی بچوں اور ماں باپ عزیز واقارب دوست احباب اور وطن عزیز سے جدا ہو۔لیکن صحابہ کرام نے خدا تعالیٰ کے لیے ان سب جدائیوں کو گوارا کیا تا کہ اپنے ایمان کو سلامت رکھ سکیں۔آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے قبل بعض صحابہ نے کفار کی ایذا رسانیوں سے نجات کی کوئی www۔alislam۔org