مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 24 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 24

مسلم نوجوانوں کے نامے 47 ثبوت پیش نہ کر سکو گے تو ربیعہ سے قسم لے کر ان کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔لیکن امرء القیس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ جو شخص اپنا حق سمجھتے ہوئے اسے چھوڑ دے اسے کیا اجر ملے گا۔آپ نے فرمایا جنت۔اس پر امر بلقیس نے کہا کہ یا رسول اللہ میں اس زمین سے ربیعہ کے حق میں دست بردار ہوتا ہوں۔-4 حضرت عروہ بن مسعود کو بعض لوگوں نے زخمی کر دیا تھا اور وہ آخری دموں پر تھے کہ ان کے قبیلہ کے بعض لوگ ان کے خون کا بدلہ لینے کی تیاریاں کرنے لگے۔انہوں نے یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی اپنے قبیلہ کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ میں نے خود اپنا خون معاف کر دیا۔میرے بارے میں کوئی جنگ وجدل نہ کرو میں چاہتا ہوں کہ تمہارے درمیان مصالحت رہے۔- صحابہ کرام اکثر جھگڑے کے مواقع کوحلم و برداشت سے کام لے کر ٹال دیتے تھے۔اوراس کا نتیجہ یہ تھا کہ ان کے درمیان مقدمات بہت تھوڑے ہوتے تھے۔حضرت سلمان بن ربیعہ باہلی کوفہ کے قاضی تھے۔ان کی نسبت حضرت ابو وائل کا بیان ہے کہ میں ان کے پاس مسلسل چالیس روز تک آتا جاتا رہا۔لیکن ان کے یہاں کسی فریق مقدمہ کو کبھی نہیں دیکھا۔مروان بر سر عام منبر پر چڑھ کر حضرت علی کرم اللہ وجہ کو برا بھلا کہا کرتا تھا۔حضرت امام حسنؓ اس کی باتوں کو اپنے کانوں سے سنتے۔اور خاموش رہتے تھے۔ایک مرتبہ اس نے کسی شخص کے ذریعہ آپ کو نہایت بخش با تیں کہلا بھیجیں۔آپ نے سنیں تو فرمایا اس سے کہہ دینا کہ خدا کی قسم میں اسے گالی کا جواب گالی سے دے کر اس پر سے دشنام دہی کا داغ نہیں مٹاؤں گا۔آخر ہم دونوں نے ایک روز احکم الحاکمین کے حضور جانا ہے اور وہی منتقم حقیقی جھوٹے سے اس کے جھوٹ کا بدلہ لے گا۔سیرت صحابہ کا یہ پہلو ہمارے زمانہ میں خاص طور پر قابل توجہ ہے۔عام مسلمانوں میں آج مسلم نوجوانوں کے 48 متحمل و بردباری کا فقدان ہے جس کی ایک بڑی وجہ کسی نظام کا موجود نہ ہونا ہے چونکہ وہ ایک ایسے منتشر گلہ کی طرح ہیں جس کا کوئی نگہبان نہیں۔اس لیے قومی وحدت اور اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی قومی شوکت کے احساس سے بالکل عاری ہو کر ذرا ذراسی باتوں پر طول طویل تنازعات بلکہ مقدمات میں مبتلا رہتے ہیں۔اور اس طرح اپنی اقتصادی بدحالی کے باوجود بہت سارو پیہ ضائع کرنے کے علاوہ اپنا وقت اور قوت عمل بھی ضائع کرتے ہیں۔اور اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے علماء اور مذہبی رہنما ان کے سامنے ان کے بزرگوں کا اسوہ پیش نہیں کرتے اور انہیں کبھی یہ بتانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ان کے آباؤ اجداد کا کیا طریق عمل تھا۔اور وہ ایسے موقع پر کس طرح حیرت انگیز حلم کا ثبوت دیتے تھے۔حوالہ جات ا۔(اسدالغابہ ج 4 ص 127،126) ۲ ( بخاری کتاب المغازی باب از همت طائفتان منکم ان تفشلا ) ۳۔(اسد الغابہ ج 1 ص 160) ۵۔(اسد الغابہ ج 2 ص 281) ۴۔(ابن سعد زکر عروہ بن مسعود) - ( تاریخ الخلفاء سیوطی ص 189) www۔alislam۔org