مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 25 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 25

مسلم نوجوانوں کے سنہ ی کارنامے اطاعت امیر 49 صحابہ کرام کی زندگیوں میں ایک چیز ہمیں نہایت واضح نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ وہ خلفاء اور امراء کی اطاعت سے کسی صورت میں بھی جی نہ چراتے تھے۔اور اپنے علم وفضل کے باوجودان کے ساتھ اختلاف کو گوارا نہ کرتے تھے۔بلکہ ان کے پیچھے چل کر قومی وحدت کو برقرار رکھتے تھے اور یہی ایک چیز ہے جس نے اختلافات کے باوجود ان کے شیرازہ کو منتشر نہ ہونے دیا۔اور من حیث القوم ان کو اس قدر مضبوط کر دیا تھا کہ اپنی کمی تعداد، غربت، بے بسی اور انتہائی کمزوری کے باوجود وہ بڑے بڑے طاقت ور دشمنوں کے مقابلہ میں کامیاب وکامران ہوتے تھے۔اس ضمن میں چند ایک اہم واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔1- ایک دفعہ حضرت عمار نے حضرت عمر کے سامنے ایک حدیث بیان کی۔حضرت عمر نے آپ کو ٹو کا۔لیکن اپنی بات کامل وثوق کے باوجود انہوں نے امام وقت کے ساتھ اختلاف کی جرات نہیں کی۔بلکہ نہایت پشیمانی کے ساتھ عرض کیا۔یا امیر المومنین ! اگر آپ فرما ئیں تو آئندہ میں کبھی اس حدیث کی روایت نہ کروں گا۔2- ایک دفعہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے حج کے متعلق لوگوں کو کوئی فتو ئی دیا۔ایک شخص نے ان سے کہا کہ ابھی ٹھہر جائیے کیونکہ امیر المومنین حضرت عمر نے اس کے متعلق کچھ اور بیان فرمایا ہے۔چنانچہ انہوں نے فورا لوگوں سے کہا کہ میرے فتویٰ پر عمل نہ کرو۔امیر المومنین تشریف لا رہے ہیں ان کی اقتداء کرو۔ایک بار حضرت عثمان نے منی میں چار رکعت نماز ادا کی۔حضرت عبداللہ بن مسعود کو ان سے اختلاف تھا اور وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہاں دور کعتیں پڑھی ہیں۔اور پھر حضرت ابو بکر کے ساتھ اور ان کے بعد حضرت عمرؓ کے ساتھ دورکعتیں پڑھی ہیں۔اس لیے میں تو چار رکعتوں پر دو کو ہی ترجیح دوں گا لیکن جب وقت آیا تو خود بھی چار مسلم نوجوانوں کے 50 رکعتیں ہی پڑھیں۔لوگوں نے کہا کہ آپ تو اس مسئلہ میں حضرت عثمان سے اختلاف رکھتے تھے اور اب خود بھی ان کی اقتداء کرتے ہیں۔قول و فعل میں اس تفاوت کی کیا وجہ ہے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ اختلاف بری چیز ہے۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت عثمان نے چونکہ اس جگہ مکان بنالیا تھا۔اس لیے آپ اپنے آپ کو مسافر کی حیثیت میں نہ سمجھتے تھے اس لیے قصر کی بجائے پوری نماز ادا کرناضروری خیال فرماتے تھے۔-4- حضرت عبد اللہ بن عمر اتباع سنت کا بہت خیال رکھتے تھے۔اس لیے جب منی میں تنہا نماز پڑھتے تو قصر کرتے تھے۔لیکن جب امام کے ساتھ نماز کا اتفاق ہوتا تو چار رکعت ہی ادا فرماتے تھے۔اور فرماتے کہ اختلاف سے بچنا چاہیے۔5- ایک بار حضرت ابو بکر ایک شخص پر بہت ناراض ہوئے۔پاس ایک صحابی بیٹھے تھے۔انہوں نے عرض کیا یا امیر المومنین اگر ارشاد ہو تو اس کی گردن اڑادوں۔جب حضرت ابو بکر کا غصہ فرو ہوا تو اس سے پوچھا کہ اگر میں کہتا تو کیا تم واقعی اس کو مار ڈالتے۔انہوں نے جواب دیا یا امیر المومنین ضرور مار دیتا۔اس کے متعلق یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ یہ واقعہ اس زمانہ کے تمدن کے مطابق ہے اور اس کے اندراج سے مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ صحابہ کرام کے نزدیک خلیفہ وقت کی خوشنودی اس قدر اہم چیز تھی کہ اس کی ناراضگی اور تنگی کے مورد کو وہ قابل گردن زدنی سمجھتے تھے۔گو یہ ثابت نہیں کہ صرف اسی طرح اختلاف کے اظہار کرنے والے کو کبھی بھی سزا دی گئی۔تا ہم اس سے اس روح کا پتہ ضرو چلتا ہے جو ان لوگوں کے قلوب میں موجود تھی۔یہ چند ایک واقعات صرف اس نقطہ نگاہ سے درج کیے گئے ہیں کہ بتایا جا سکے کہ دین متین کے وہ اولین حامل دینی امور میں خلفاء اور امراء کی آراء کے سامنے کس طرح اپنے علم و فضل کے خیال کو ترک کر کے بلا چون و چرا ان کے پیچھے ہو لیتے تھے۔اور ان کے ساتھ کسی قسم کی بحث یا تکرار کا خیال بھی دل میں نہ لاتے تھے۔اور دراصل جب تک یہ روح موجود نہ ہو اور ذاتی آراء www۔alislam۔org