مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 23
46 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 45 مسلم نوجوانوں کے رنامے حلم اور جھگڑوں سے اجتناب صحابہ کرام میں اسلامی تعلیم نے ایسی محبت اور یگانگت پیدا کر دی تھی کہ باہمی جھگڑوں سے بہت بچتے تھے۔اور معمولی معمولی باتوں کے پیچھے پڑ کر جو عام لوگوں میں خطر ناک فسادات پیدا کر دیتی ہیں قومی وحدت کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔اور کسی بھائی کی طرف سے اگر کوئی ناخوشگوار بات پیدا ہوتی تو نہایت تحمل اور بردباری کا ثبوت دیتے تھے۔دراصل ان کی عظیم الشان طاقت اور قوت کا ایک راز یہ بھی تھا کہ وہ باہم نفاق اور تفرقہ پیدا نہ ہونے دیتے تھے کیونکہ یہ ایک ایسی خطرناک چیز ہے جو قومی قوت اور طاقت کو تباہ کر دیتی ہے۔ظاہر ہے کہ جس قوم کے افراد باہم دست وگریباں رہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ آمادہ پر کار ہوں وہ مخالف اور دشمن کا مقابلہ کرنے کی اہلیت کھو بیٹھتی ہے۔چند واقعات ملاحظہ ہوں۔-1- حضرت قیس بن عاصم المنقری اپنے قبیلہ کے رئیس تھے۔ایک مرتبہ ایسا واقعہ ہوا کہ ان کے لڑکے کو ان کے بھائی کے لڑکے یعنی ان کے بھتیجے نے قتل کر دیا اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔انسان کے لیے اس سے بڑھ کر اور کوئی صدمہ نہیں ہوسکتا۔ایسے موقع پر بڑے بڑے تحمل اور برد بار لوگ بھی ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں۔لوگ مقتول کی لاش اور اس کے ساتھ قاتل کو گرفتار کر کے ان کے پاس لے آئے۔ہر شخص غور کر سکتا ہے کہ نو جوان فرزند کی لاش اگر سامنے پڑی ہوئی ہو تو اس کے دل کی کیفیت کیا ہوسکتی ہے۔اور وہ کس طرح قاتل کوٹکڑے کردینا چاہتا ہے۔تاریخ میں ایسے واقعات بکثرت ملتے ہیں کہ ایسے صدمات کے موقعہ پر کمزور سے کمزور اور بے بس سے بے بس انسان بھی خطرناک اقدام کر گزرے ہیں۔لیکن حضرت قیس نے ہر قسم کی طاقت اور سامان رکھنے کے باوجود کوئی انتقامی کاروائی نہیں کی بلکہ صرف اتنا کیا کہ اپنے بھتیجے کو بزرگانہ انداز میں نصیحت کی۔اس کے فعل کی شناعت کو اس پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو تم نے کتنا برا کام کیا۔اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی اور اس طرح گنہ گار ہوئے۔اور اس کے علاوہ اپنے چازاد بھائی کو قتل کر کے قطع رحمی کی اور اپنی خاندانی طاقت کی کمزوری کا موجب ہوئے۔بس اس کے بعد آپ نے اپنے دوسرے لڑکے سے کہا کہ اس کی مشکیں کھول دو اور بھائی کی تجہیز وتکفین کا انتظام کرو۔جو لوگ معمولی معمولی باتوں پر اپنے بھائیوں سے برسوں تنازعات کرتے رہتے ہیں ان کے لیے اس واقعہ میں بڑا سبق ہے۔2 حضرت حذیفہ بن الیمان ایک نو جوان صحابی تھے۔اپنے والد کے ساتھ غزوہ احد میں شریک ہوئے۔ایک موقعہ پر مشرکین اور مسلمانوں کے مابین ان کے والد آگئے۔مسلمانوں نے مشرکین پر حملہ کیا تو حذیفہ نے آواز دی کہ دیکھنا سامنے میرے والد ہیں۔لیکن یہ آواز مسلمانوں تک نہ پہنچ سکی۔اور یوں بھی جب گھمسان کی جنگ ہورہی ہو اور دو فریق ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہوں۔دور سے آئی ہوئی کسی بیرونی آواز کا کیا اثر ہوسکتا ہے۔چنانچہ یہ آواز بھی صدا بصحر اثابت ہوئی اور ایک مسلمان کے ہاتھوں نادانستہ طور پر حضرت حذیفہ کے والد شہید ہو گئے۔حضرت حذیفہ کو علم ہوا تو بجائے اس کے کہ کوئی جھگڑا اوغیرہ کھڑا کرتے صرف اتنا کہا۔یغفر الله لكم۔یعنی اللہ تعالی تم کو معاف کرے۔اس واقعہ کے ساتھ اگر اس بات کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ اسلام سے قبل عربوں کی ذہنیت کیا تھی اور وہ کس طرح کتیا کے بچوں کی موت پر برسوں برسر پیکار رہتے تھے تو اس عظیم الشان انسان پر بے ساختہ درود بھیجنے کو دل چاہتا ہے جس نے ان کے اندر ایسا عظیم الشان اور پاکیزہ تغیر پیدا کر دیا۔3- ایک دفعہ دو صحابیوں یعنی امر القیس اور ربیعہ بن عبدان حضرمی کے مابین کسی زمین کی صلى الله ملکیت کے بارے میں تنازعہ پیدا ہو گیا۔جس میں ربیعہ نے بحیثیت مدعی آنحضرت میلہ کے حضور شکایت کی۔آپ نے ان سے ثبوت طلب فرمایا اور ساتھ ہی فرمایا کہ اگر تم www۔alislam۔org