مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 22
مسلم نوجوانوں کے نامے بغیر نہیں رہ سکے۔چنانچہ ایک عیسائی مورخ لکھتا ہے کہ 43 عیسائی اس کو یاد رکھیں تو اچھا ہو کہ محمد کے مسائل نے وہ درجہ نشہ دین کا آپ کے پیروؤں میں پیدا کر دیا تھا کہ جس کو حضرت مسیح کے ابتدائی حواریوں میں تلاش کرنا بے سود ہے۔جب حضرت مسیح کو یہود صلیب پر لٹکانے گئے تو ان کے پیرو بھاگ گئے اور ان کا نشہ دینی جاتا رہا۔اور صلى الله اپنے مقتدا کو موت کے پنجہ میں گرفتار چھوڑ کر چل دیئے۔برعکس اس کے محمد ﷺ کے پیرو اپنے مظلوم پیغمبر کے گرد آئے اور اپنی جانیں خطرہ میں ڈال کر کل دشمنوں پر آپ کو غالب کر دیا“۔آنحضرت ﷺ کے ساتھ آپ کے صحابہ کے عشق و فدائیت کے واقعات سے یہ بات ظاہر ہے کہ صحابہ کرام آپ کی حفاظت کے لیے ظاہری انتظامات سے بھی غافل نہ ہوتے تھے۔اور کبھی اس خیال میں نہ رہتے تھے کہ جب آپ اس قدر مقرب بارگاہ الہی ہیں تو وہ خود آپ کی حفاظت کرے گا۔اور آنحضرت ﷺ کے متعلق ایسے واقعات اور انتظامات کی موجودگی کے باوجود حیرت ہے کہ آج کل بعض لوگ ایسے انتظامات کو تو کل کے منافی قرار دیتے ہوئے غیر ضروری سمجھتے ہیں۔اور یہ نہیں سوچتے کہ جب آپ کے لیے بھی ایسے انتظامات ضروری تھے تو آپ کے جانشین یا اس کے خلفاء کے لیے وہ کیونکر نا جائز ہو سکتے ہیں۔بے شک یہ صحیح ہے کہ اس زمانہ میں جنگیں در پیش نہیں ہیں لیکن کیا حفاظت صرف جنگ کے موقع پر ہی ضروری ہوتی ہے۔اور عام حالات میں نہیں۔کیا ہمارے زمانہ میں باوجود ایک آئینی حکومت ہونے کے حملوں اور قاتلانہ حملوں کے واقعات نہیں ہوتے۔بالخصوص جب مذہبی مخالفت انتہائی شدت پر ہو۔اور مطلب پرست مولویوں نے جاہل عوام الناس کو مذہب کے نام پر سخت مشتعل کر رکھا ہو۔حتی کہ اپنے مخالفوں کی جان لینے کے جواز کے فتوے صادر کر دیئے ہوں۔تو ان کی موجودگی میں حفاظت کے معمولی انتظامات جنہیں زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر کہا جاسکتا ہے کیونکر توکل کے منافی سمجھے جاسکتے ہیں اور ان پر ایک دیانت دار اور خدا ترس انسان کیونکر معترض ہوسکتا ہے۔مسلم نوجوانوں کے 44 پس یہ خیال بالکل غلط ہے کہ اگر اس قسم کا کوئی انتظام کیا جائے تو وہ تقویٰ اور توکل کے منافی ہے۔حقیقت یہی ہے کہ نہ صرف یہ جائز اور بالکل ضروری ہے بلکہ اس سے غفلت برتنا اور آنحضرت ﷺ کے نور کے حقیقی مشعل برداروں کی جان کی حفاظت کے انتظامات سے غفلت برتنا بہت بڑا قومی جرم ہے۔ا۔(سیرۃ ابن ہشام ج 3 ص 105)۔(سیرۃ ابن ہشام ذکر غزوہ بدر ) ( مسند احمد بن مقبل ج 5 ص 215)۔(مسند احمد بن مقبل ج 5 ص 298) و۔(سیر انصار جلد 1 ص 160) ا۔(اسد الغابہ ج 2 ص 130) حوالہ جات ۲۔(سیر انصار جلد 1ص185) ۴۔(موطا کتاب الجہاد باب ترغیب فی الجہاد) ۶۔(سیر انصار جلد 1 ص 363) - (سیر انصار جلد اص169،168) ۱۰۔(سیرۃ ابن ہشام ذکر غزوہ بدر ) ۱۲۔( مسند احمد بن حنبل ج 1 ص 191) ۱۶۔( بخاری کتاب المناقب باب مناقب ابوبکر) ۱۹۔(سیرۃ ابن هشام ذکر احد )۔( بخاری کتاب الکفاله باب اذا باع الوکیل شیلا۔۔۔) ۱۴۔( ابن سعد ج 1 ص 28) ۱۵۔(ادب المفرد ) ا۔( بخاری کتاب بنیان الکعبه باب ذکر مالی النبی اله واصحابه من المشركين بمکة م ) ۱۸۔(زرقانی ج1 ص335) www۔alislam۔org