پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت

by Other Authors

Page 29 of 49

پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 29

پُر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار عظمت 29 29 سچ بتانا تم ہی اے مدعیان ایماں کون ہے آج جو اسلام کے کام آتا ہے سلسلہ قائم ہوئی اس کے دم سے پہنچانا اسے حق کا پیام آتا ہے آج سورج نکل آیا یہ کدھر مغرب سے ہم سمجھتے تھے کہ مشرق سے مدام آتا ہے مژدہ اے دل کہ مسیحا نفسی می آید که ز انفاس خوشش بوئے گئے می آید قادیاں! تجھ کو مبارک ہو ورود محمود دیکھ لے! دیکھ لے! شاہنشہ خوباں ہے وہی آج رونق ہے عجب کوچہ و برزن میں ترے بادہ خواروں کے لئے عیش کا ساماں ہے وہی رشک تجھ پر نہ کرے چرخ چہارم کیونکر طور سینا ترے جلوہ فاراں ہے وہی آمد فجر رسل حضرت احمد کا نزول دونوں آئینوں میں عکس رخ جاناں ہے وہی ہیں جنہیں ز آتش وادی ایمن نه منم خرم و بس موسیٰ این جا بامید قبے می آید سب راہ نما کہتے ہیں اہل دل کہتے ہیں اور اہلِ دعا کہتے ہیں آپ کو حق نے کہا ” سخت زکی “ اور ” فہیم" مظہر حق و علی۔ظلِ خدا کہتے ہیں