پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 30
پُر کیف عالم تصور کا مشاعر و جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار رستگاری کا سبب آپ ہیں قوموں کیلئے ہر مصیبت کی کی تمہیں لوگ دوا کہتے ہیں 30 آپ وہ ہیں کہ جنہیں فخر رسل“ کا ہے خطاب یکھنے والے جب ہی صلِ علیٰ کہتے ہیں استجابت کے کرشمے ہوئے مشہور جہاں آپ کے در کو در فیض و عطا کہتے ہیں میں بھی سائل ہوں طلبگار ہوں اک مطلب کا کوئے احمد کا لوگ مجھے گدا کہتے ہیں میری اک عرض ہے اور عرض بھی مشکل ہے بہت دیکھئے آپ بھی آپ بھی اسے سن کر کیا کہتے ہیں جس کی فرقت میں تڑپتا ہوں ، وہ کچھ رحم کرے یعنی مل جائے مجھے جس کو خدا کہتے ہیں حضرت ڈاکٹر منظور احمد صاحب منظور بھیروی ابن حضرت مولانا محمد دلپذیر بھیروی صاحب ( الفضل ۲۵ نومبر ۱۹۲۴ ء صفحه ۲ ) سال بیعت ۱۹۰۸ء۔۱۹۴۷ کے پرفتن ایام میں مرکز احمدیت قادیان کو الوداع کہہ کر سلانوالی ضلع سرگودہا میں مقیم ہو گئے نظم برائے سلور جوبلی خلافت احمد یہ ۱۹۳۹ء) میرے مہدی کا جگر پارا پیارا محمود میرا محمود، میری آنکھوں کا تارا محمود اس کے ہی قدموں میں اب پائیں گی تو میں برکت بے نواؤں کا ، غریبوں کا ، سہارا محمود