پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 28
پُر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار تیسری نشست حضرت ڈاکٹر سید میر محمد اسماعیل صاحب دہلوی 28 ( حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کے مقدس بھائی۔یکے از رفقاء کبار۳۱۳ نمبر ۷۰۔ضمیمہ انجام آتھم۔سیدنا مسیح موعود کے بے مثال عاشق اور علم الا بدان اور علم الادیان کے جامع اور پیکر تصوف۔بخار دل آپ کے عارفانہ کلام کا نہایت ایمان افروز مجموعہ ہے جس سے آپ کے فانی فی اللہ ہونے کی خوب عکاسی ہوتی ہے۔یہ نظم حضرت مصلح موعود کی سفر یورپ ۱۹۲۴ء سے کامیاب مراجعت پر سپرد قلم ہوئی اور مجمع عام میں سید عبد الغفور صاحب ابن حضرت میر مہدی حسن مجاہد ایران نے خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر سنائی۔) شکر صد شکر ! جماعت کا امام آتا ہے الله الحمد! کہ بانیل مرام آتا ہے زیپ دستار کیسے فتح کنکر اور فاتح شام ظفر کا سہرا آتا ولیم الشمس کے ملکوں کو منور کر کے اپنے مرکز کی طرف ماہ تمام آتا ہے پاس مینار مشقی کے بصد جاه و جلال ہو کے نازل یہ مسیحا کا غلام آتا مرحبا! ہو گئی لندن میں وہ (بیت) تعمیر جس کی دیوار پر محمود کا نام آتا ہے ہے