مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 73
(۷۳) یہ وہ پہلی ملاقات تھی جس میں میں نے انہیں بہت کشادہ دل اور متوازن طبع انسان پایا۔اور یہ وہ حقیقت تھی جو مجھ پر اس وقت عیاں ہوئی جب مجھے پتہ چلا کہ ان کی معلومات بہت وسیع تھیں وہ پر اسرار تصوف کے فلسفہ کا فہم رکھتے تھے تاریخ پر ان کا مطالعہ عمیق تھا۔نظریاتی طبیعات اگر چہ ان کا اپنا مضمون تھا مگر یہی ایک مضمون نہ تھا جس پر انہیں قادرانہ عبور حاصل تھا۔کیمسٹری کے گہرے علم کے ساتھ ساتھ بیا لوجی۔کائینات کے سب اٹامک پاریکلو کا علم بھی حیران کن تھا کاسمالوجی کے علم پر عبور بھی حیرت انگیز تھا۔لیکن جہاں تک کار خانہ قدرت کی وسعت اور اس کی خدائے واحد کی صفات کے ساتھ وحدانیت کا تعلق تھا یہ وہ ایک چیز تھی جس میں وہ اپنی تمام دوسری صلاحیتوں میں زیادہ اجاگر تھے۔مجھے یقین واثق ہے کہ ان کی تھیوری آف یونیفائیڈ فیلڈ کا اصل منبع ان کے خدائے تعالیٰ کی وحدانیت کے عقیدے پر پختہ ایمان تھا۔ان کا پختہ عقیدہ تھا کہ ہر چیز خدا تعالیٰ سے شروع ہوتی اور اسی پر ختم ہو جاتی ہے۔اس عقیدہ نے لا زماً ان میں تحریک پیدا کی ہوگی کہ وہ سائینسی اعتبار سے ثابت کریں کہ یونی فائیڈ فیلڈ تھیوری کے تحت اس کی کچھ بینادی طاقتیں ہیں جو موجودات میں کام کرتی نظر آتی ہیں۔ہماری اس ملاقات کے دوران انہوں نے مجھے بتلایا کہ وہ اپنی ریسرچ میں اس مسئلہ پر بہت آگے پہنچ چکے ہیں کہ فطرت کی دو اور قوتوں میں وحدانیت ثابت کر سکیں۔اگر زندگی نے ان کو اور مہلت دی ہوتی تو مجھے یقین ہے کہ ان کو ایک اور نوبل انعام اس بناء پر دیا جاتا کہ انہوں نے فطرت کی دو اور بینادی قوتوں کا نظریاتی طور پر ایک ہونا ثابت کر دیا ہے۔یہ تحسین اور داد کا مختصر خاکہ اس عبقری انسان کی یاد میں پیش کر نیکا یہ مقصد نہیں کہ اس کی سائینسی کا میابیوں پر مزید کچھ کہا جائے میں تو اس بابرکت تقریب میں ڈاکٹر سلام کی صرف چند ایک جھلکیاں پیش کرنا چاہتا ہوں جو کبھی بھی اچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے کہ وہ جدید سائینسی علوم اور ان کی پیچیدگیوں پر مجھ جیسے عام علم رکھنے والے کے ساتھ بے تکلفانہ تبادلہ خیالات کرتے۔ادھر میری یہ حالت تھی کہ میری تمام کوشش اس بات کو سمجھنے میں مرکوز تھی کہ روشنی کی رفتار ۱۸۶۰۰۰ میل فی سیکنڈ سے زیادہ کیوں نہیں ہو سکتی؟ پھر بھی ان کے صبر کی داد دیتا ہوں کہ میرے استدلال اور بار بار کے اصرار پر انہوں نے مشروط قسم کی حامی بھر لی۔میرا سوال یہ تھا کہ وہ اسباب و علل جو روشنی کے سفر کے لئے زیادہ سے زیادہ موزوں ہیں اگر بنیادی طور پر ان میں تبدیلی ہو جائے جو روشنی کی رفتار کو تیز تر کر سکیں تو کیا روشنی کی رفتار اس موجودہ حد سے آگے نہ بڑھے گی جو اس وقت۔ان کی طرف سے جواب اگر چہ ہچکچاہٹ والا تھا اس کے باوجود انہوں نے اثبات میں سر کو جنبش دی۔د ہے؟ میں نے اپنی پیاس بجھانے کیلئے اور بھی بہت سے سوالات کئے جن میں میٹ ریڈی ایشن کی نا قابل فہم نوعیت سے متعلق بھی ایک سوال تھا۔یہ بھی روشنی کی رفتار پر سفر کر سکتی ہے اگر چہ یہ اپنے ہی طول موج پر سفر کرتی ہے اور رفته رفته حرکت کرتی ہے گویا اس کو کمرے کے ایک کونے سے دوسرے تک جانے کیلئے مدت دراز درکار ہوگی جہاں اس کو