مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 72 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 72

(۷۲) سلام میموریل کا نفرنس کے ۱۹ نومبر تا ۲۲ نومبر ۱۹۹۷ ءٹریسٹ۔اٹلی ڈاکٹر عبد السلام کی اندوہ ناک وفات کے ایک سال بعد آئی سی ٹی پی (اٹلی میں سلام یادگاری کانفرنس منعقد ہوئی جس سے دنیا کے چوٹی کے سائینسدانوں هونی ے خطاب کیا۔اس خاص موقعہ پر جماعت احمدیه ما کے جو تھے امام حضرت مرزا طاهر احمد صاحب مگیر کے نور اللہ مرقدہ نے جو پیغام ارسال کیا اس کامتن درج ذیل ہے : میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آئی سی ٹی پی کی انتظامیہ۔کانفرنس کے محرکین۔اور تمام مند و بین جو وقت نکال کر مرحوم پروفیسر ڈاکٹر عبد السلام کی دلکش یادوں کو تازہ کرنے اور اپنے تحسین بھرے جذبات کے اظہار کے لئے یہاں تشریف لائے ہیں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔اور اس شکریہ کا اعادہ بھی کرتا ہوں کہ اس کا نفرنس کی انتظامیہ نے مجھے یہ نا در موقعہ فراہم کیا ہے کہ میں بھی مرحوم کے ذکر خیر میں شامل ہو سکوں۔ایسی کانفرنس جو ایک ایسے فہم و ذہانت میں یکتا انسان کے اعزاز میں منعقد کی جارہی ہے جس کے دل و دماغ کی غیر معمولی صلاحیتیں کسی مخصوص خطہ کیلئے محدود نہ تھیں اور یہی خصوصیت اس کی حقیقی عظمت کا نشان تھی۔جس نے انہیں اپنے ہم عصر نادر روزگار دانش وروں میں سر بلند کر دیا تھا۔میں انہیں بچپن سے جانتا تھا لیکن صرف اس حد تک کہ جیسے ایک بچہ ستاروں کو جانتا ہے مگر ایسی کوئی بے تکلفی اور ذاتی تعلق نہ تھا جس سے یہ تعلق کوئی غیر رسمی خصوصیت رکھتا ہو۔مگر ۱۹۷۸ء کی بات ہے جب میں سیر و تفریح کی غرض سے شمالی امریکہ اور یوروپ کے دورہ پر آیا۔ڈاکٹر سلام سوائے اس کے کہ بانی سلسلہ احمدیہ کے خاندان سے دلی عقیدت رکھتے تھے اور ان کی بیگم مکر مہ امتہ الحفیظ صاحبہ میری والدہ مرحومہ سے دلی محبت رکھتی تھیں۔بس یہی تعلق تھا جس پر انہوں نے مجھے اپنے گھر کھانے پر آنے کی دعوت دی۔اس موقعہ پر جب ہماری خواتین ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھیں میں اور ڈاکٹر سلام دوسرے کمرے میں مصروف گفتگو تھے۔جس سے ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقعہ ملا۔یہی وہ پہلا موقعہ تھا کہ ہمارے درمیان بہت گہرے ذاتی مراسم کی ابتداء ہوئی۔یہ مراسم با ہم روشن خیالی۔روحانی رشتے اور مخلصانہ جذبات پر بنی تھے اور ان کی وفات تک اسی طرح برابر قائم رہے۔مگر وہ مسحور کن شخص جس کی دلداری کسی انسانی دائرہ عمل یا دلچسپی تک محدود نہ تھی اس کی رحلت مجھے سوگوار بنا گئی ہے۔