مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 74
(۷۴) سلگایا گیا جبکہ روشنی جو اسی منبع سے نکلتی ہے اس کو کمرے کے اندر سفر کرنے میں عملاً کوئی وقت نہیں لگتا ہے۔اس قسم کے بے شمار متجسسانہ سوالات کی بھر مار تھی اور ان کی طرف سے دیانت دارانہ طور پر کوشش تھی کہ وہ آخر تک جواب دیتے رہیں یہاں بھی انہوں نے بلا خر خموش لہجے میں اقرار کیا کہ ہیٹ ریڈی ایشن کی نوعیت کے بارہ میں ایک حصہ ضرور ایسا ہے جس کو بہت سے جدید سائینسدان ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہیں۔یہ اس بے تکلف اور دلکش ملاقات کی باتیں ہیں جس سے میں عبد السلام کی صحیح عظمت کو جان سکا۔یہ ان کے فہم و ادراک کا معراج ہی تھا جس میں ان کی عظمت پوشیدہ ہے۔یہ تھی وہ ملاقات جس کے بعد پھر ہم کبھی جدا نہ ہو سکے۔میرا ان سے ہمیشہ گفتگو اور استفسار کا تعلق رہا۔وہ اپنے پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل جو انہیں در پیش ہوتے ان کو میرے ساتھ زیر بحث لاتے۔اور میں نے بھی ایسی ملاقاتوں کو ہمیشہ جاندار بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا ، یہ ملاقاتیں میرے لئے ہمیشہ از دیاد علم کا باعث ہوتی تھیں۔ڈاکٹر عبد السلام کے انسان دوستی کے رجحان کی کوئی حد نہ تھی۔اس کی کوئی خارجی حد نہ تھی اور نہ ہی اندرونی حد۔کوئی مذہبی۔سیاسی۔غیر ملکی یا قومی حد ان کے شفاف انسانی دل پر واقع نہیں تھی۔عبد السلام کے لئے انسان دوستی کا نعرہ تحسین ٹریسٹ میں موجود تھیور ٹیکل فزکس کا عالمی ادارہ ہمیشہ بلند کرتا چلا آیا ہے اور ہمیشہ کرتا چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ڈاکٹر سلام کی روح کو آخرت میں سکون بخشے اور ان نیک مقاصد کو مرہون تکمیل کرے جو وہ اس مادی زندگی کی بے انتہا وسعت میں اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔آمین (انگلش سے ترجمہ بشیر الدین سامی لندن۔۔۔۔نظر ثانی ابو ذیشان )