مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 71
(<1) کے، اس فیصلہ سے میں بھی متفق نہ تھا۔اور یہ جملہ وجوہات میں سے ایک وجہ تھی کہ ۱۹۶۰ء کی دہائی کے نصف سے میرے تعلقات فیکلٹی آف میتھ کے ساتھ گرتے گرتے صفر درجہ تک پہنچ گئے۔میں نے کیمبرج کو ۱۹۷۲ء میں الوداع کہہ دیا اور عبد السلام آئی سی ٹی پی کا ٹریسٹ (اٹلی) میں ڈائریکٹر مقرر ہو گیا تو میں اس سے ملاقات کی غرض سے تواتر کے ساتھ جاتا رہا۔چنانچہ زندگی کے آخری سالوں میں میرا اس سے ملنا جلنا امید سے زیادہ ہوا۔اس کا ایک نقطہ نظر تھا جس کو اس نے زندگی کے آخری سانس تک سینے سے لگائے رکھا۔اور جس کو میں قابل ستائش سمجھتے ہوئے یہاں ریکارڈ میں لانا چاہتا ہوں۔عبد السلام کے نزدیک بیسویں صدی کا سب سے عظیم سائینسدان بلا شبہ پال ڈائیراک تھا Paul Dirac شاید کوئی شخص استدلال کرے کہ ہاں سینٹ جانز کالج کا ایک گریجوئیٹ اسی کالج کے دوسرے گر یجو یٹ کی لازماً تائید کرے گا لیکن جب میں نے اس سے استفسار کیا کہ اس فہرست میں آئن سٹائن بھی شامل ہے ؟۔اس کا جواب اس ضمن میں دو ٹوک تھا: آئن سٹائن کیلئے اس کا تمام میته math اس کو کر کے دیا جا تا تھا جبکہ ڈائیراک نے اس کو خود ایجاد کیا نہ صرف په بلکه وه ڈائیراک هی تھا جس نے یہ بات واضح کی که تهیو رتیکل فرکس کی طرف جانے والا راسته abstract math سے ھو کر جاتا هے نه که میته کو انجئینر کر نے سے۔۔میرے نزدیک عبد السلام کا یہ نقطہ نظر بلکل درست تھا نوٹ: اصل مضمون میں عبد السلام کی بجائے abdus کا نام استعمال ہوا ہے۔ترجمہ ذکر یاورک)