مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 70 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 70

(4۔) اسے ایک مشکل مسئله در پر تما پیش هے جو که مندرجه ذیل حکومت پاکستان نے اس کے تھرڈ ائیر کا سکالر شپ مہیا کیا تھا اس نے سوچا کہ وہ فزکس پارٹ دوم کا اس سال مطالعہ کرنے کی بجائے میتھ پارٹ دوم کی کلاسز لے۔لیکن اس نے ابھی تک چونکہ تجرباتی فر کس نہ کی تھی لہذا اس کو اس مضمون میں دوسرے درجہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی امید نہ تھی جبکہ اگر وہ میتھ پارٹ سوم کرے تو اس کو یقین کی حد تک اعتماد تھا وہ فرسٹ پوزیشن حاصل کر سکے گا جس کی وجہ سے وطن عزیز میں سرکاری حکام مسرت کا اظہار کریں گے۔اس نے مجھ سے استفسار کیا کہ مجھے اس صورت حال میں کیا کرنا چاہئے؟ کچھ دیر کی گفتگو کے بعد میں نے بلاآخر یہ کہا کہ اسے وہ مضمون پڑہنا چاہئے جس کی پاکستان کو مستقبل میں زیادہ ضرورت ہوگی بجائے شارٹ ٹرم فائدہ حاصل کرنے کے۔جس سے میری مراد یہ تھی کہ وہ فزکس پارٹ دوم کرے (یعنی ریاضی دان بنے کی بجائے وہ فزکس کی فیلڈ اختیار کرے)۔بعد کے سالوں میں مجھے وہ بتلایا کرتا تھا کہ یہ گفتگو اسکی زندگی کی اہم ترین گفتگو تھی۔چنانچہ کیونڈش لیبارٹری میں ریاضی کے ایسے ماہر شخص کا گھومنا پھرنا کیب میں کام کرنے والے افراد کے لئے ایک انوکھا تجربہ تھا خیر کچھ بھی ہو جلد ہی عبد السلام سے ہر کوئی متعارف ہو گیا اور تھیو رٹیکل فزکس میں ہونے والی تازہ بہ تازہ ریسرچ اور ری نارما لائزیشن تھیوری (میں اس کے انکشافات میں وہ ایسا انسان ثابت ہوا جس پر نت نئے آئیڈیاز ہر وقت ہر آن غیب سے نازل ہوتے ہوں۔جوں جوں سال تیز رفتاری کے ساتھ گزرتے گئے وہ دیکھتے ہی دیکھتے کالج کا فیلو مقر ر ہو چکا تھا پھر یو نیورسٹی کا لیکچرار۔پھر امپرئیل کالج آف سائینس اینڈ ٹیکنالوجی (اندن یونیورسٹی) میں تھیورٹکل فزکس کا پروفیسر۔مجھے ہمیشہ یہ امید بندھی رہی کہ عبد السلام ایک روز ضرور کیمبرج واپس آ جائیگا اور میرا یقین ہے کہ اگر اسے تھیور ٹیکل فزکس کی چیئر پیش کی گئی ہوتی تو وہ ضرور واپس لوٹ آتا۔ایسے دو مواقع ۱۹۹۰ء کی دہائی میں نمودار ہوئے لیکن دونوں مرتبہ فیکلٹی آف میتھ نے الیکٹرورل بورڈ کو ہدایت کی کہ یونیورسٹی کو Continuum Mechanics کے پروفیسر کی زیادہ ضرورت ہے۔یہ نسبت تھیورنیکل فزکس