مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 69 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 69

(19) اس پس منظر میں ٹرائی پوز کے بہت سارے مسائل کو جوں توں کر کے حل کر ہی لیا۔ٹرائی پوز میں در پیش سوالات کے جوابات کی صاف ستھری فائیلیں تیار کرنا یہ کام جس طرح بہت سارے دوسرے کرتے تھے میری طبیعت اس جانب مائل نہ ہو سکی۔چنانچہ اکتوبر کے مہینہ میں جملہ فرائض کو یوں بغیر سوچے سمجھے فوری طور پر کرنے پر مجھے بہت سے مسائل سے دوچار ہونا پڑا کیونکہ لبی تعطیلات کے بعد میرے ذہن کو زنگ لگ چکا ہوتا تھا اور اب مجھے دوبارہ ہر مضمون کو پڑہانا ہوتا تھا۔مگر نومبر کے وسط تک یہ خوف ذھن سے مائل ہو چکا ہوتا اور بقیہ سال بھی یہی حالت رہتی جبکہ مئی کا مہینہ آ جاتا اور ہر کام پہلے سے آسان لگنے لگتا تھا۔برے اوقات میں میرے لئے یہ کام زیادہ بو جھل نہ ہوتا تھا جب میں عبد السلام جیسے طالب علم کے ساتھ (ریاضی کے ) گھمبیر مسائل میں گم ہو جاتا تھا۔یہ نسبت ایسے طلباء کے جو ( کلاس) میں یوں ہی بیٹھے رہتے اور کھڑکی سے باہر دور فضاء میں ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے ہوتے مؤخر الذکر طلباء کے ساتھ گویا انسان کو دو بھاری پتھر اونچائی کی طرف لے جانے ہوتے تھے ایک بھاری پتھر تو وہ ریاضی کا اصل مسئلہ ہو تا تھا اور دوسرا کند ذھن طالب علم کو وہ مسئلہ سمجھانا ہوتا تھا۔عبدالسلام کے ساتھ انسان کو صرف ایک پتھر اونچائی کی طرف لے جانا ہوتا تھا کیونکہ وہ خود اس پتھر کو پوری قوت و استعداد کے ساتھ دھکیلتا تھا۔اس دوران زمین ایک بار پھر اپنے مدار پر گھوم چکی ہوتی تھی اور عبد السلام سے جس کام کی توقع کی جاتی تھی اس کام کو وہ سر انجام دے چکا ہو تا تھا یعنی میتھ کے ٹرائی یوزپارٹ دوم میں اس نے اول پوزیشن ها صیل کی چنانچہ اب کی بار میری اس سے ملاقات تھرڈ کورٹ کی عمارت میں ہوئی جو کہ لائیبریری کی طرف جاتے سونے موڑ پر واقع ھے اس نے مجھے پر جوش سلام کیا میں وہیں رک گیا اور پھر ھم دونوں نے ایک دوسرے کی طرف بے اختیار چلنا شروع کر دیا اس نے مجھے بتلایا کہ