مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 66 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 66

(YY) کیلئے اور Howarth کے ساتھ میں اپلائیڈ میچھ کیلئے مقرر تھے۔ہاور تھ کا کمرہ میرے ساتھ ملحقہ تھا جو سٹر ھیوں کے قریب تھا۔اس کا آفس میرے آفس سے فنی اور تکنیکی اعتبار سے بہت ایڈوانس تھا کیونکہ اس کے اندر فائر پلیس کو بلاک کر دیا گیا تھا اس کی جگہہ کمرہ کے اندر گیس فائر تھی جو طلباء اس کے کمرہ میں کو چنگ کیلئے آتے تھے ان کی خاطر تو اضع اس گیس فائر سے کی جاتی تھی۔کمرے کے باہر درجہ حرارت، ۲۰ درجہ منفی متواتر رہنے لگا تھا اور میرے کمرے کے اندر گیس فائر کا کوئی انتظام نہ تھا چنانچہ خود کو گرم رکھنے کیلئے طلباء کو میرے کمرے میں جو کچھ نظر آتا وہ اپنے اوپر اوڑھ لیتے دوسری اشیاء کی طرح جنگ کے بعد پہننے کے کپڑے بھی سخت راشن پر ملتے تھے چنانچہ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسان کا ہاتھ جس کپڑے پر پڑتا وہ اسے دبوچ لیتا۔چاہے وہ لباس کتنا ہی فرسودہ کیوں نہ ہو۔پھر میرے شاگردوں نے یہ بات جلد ہی جان لی کہ جو ملتا ہے پہن لو کیونکہ ہم تو کائینات کے لا نخیل مسائل کا حل تلاش کرنے کے مقصد سے یہاں جمع ہوتے تھے۔سیبوں پر گزارا یہ وہ صورت حال تھی جس میں عبد السلام کیمبرج میں وارد ہوا۔آئندہ زندگی میں اس کو ملنے والی کامیابیوں کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس نے ایسے دشوار حالات میں زندہ رہنا ممکن بنالیا تھا۔عبد السلام انڈیا میں ریاضی کی ڈگری پہلے ہی حاصل کر چکا تھا۔جو کہ اس وقت کا دستور تھا پاکستان قریب قریب اسی دور میں بنا جب سلام کیمبرج روانہ ہوا تھا۔گرم ملک سے سرد ملک کی طرف جاتے ہوئے اس نے سرد موسم کا ضرور سوچا ہوگا لیکن انڈیا میں اچھا کھانا کھاتے ہوئے (نئے ملک میں) کھانا نہ ملنے کا تو اس کو وہم گمان بھی نہ ہو گا چنانچہ کالج میں آمد پر اس کی فوڈ راشن بک آتے ہی ختم ہو چکی تھی اس پہلے موسم سرما میں اس نے سیب کھا کھا کر گزارہ کیا۔کیونکہ مارکیٹ میں صرف سیب ہی Coupons کے بغیر خریدے جاسکتے تھے۔شاید آلو بھی خریدے جاسکتے تھے لیکن میرے خیال میں وہ آلو پکا نا نہیں جانتا تھا (یا ان کا صحیح مصرف نہ جانتا تھا)۔میں مذاق نہیں کر رہا یقین کریں کہ ۵۲ - ۱۹۵۱ء تک ہمارا ہفتہ وار پنیر کا راشن صرف ایک اونس ہوتا تھا لوگ قطار میں کھڑے ہو کر پنیر کیوں لینا چاہتے تھے اس سے