مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 65 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 65

(۶۵) جب عبد السلام سینٹ جانز کالج میں بطور طالب علم آئے تو سر فریڈرک ہوئیل ان کے استاد مقرر ہوئے مندرجہ ذیل مضمون انہوں نے ڈاکٹر سلام کی وفات پر لکھا جو کالج کے رسالہ The Eagle میں 1992 ء میں شائع ہوا www۔joh۔cam۔ac۔uk/publicationsleagle97 مجھے پختہ یقین نہیں لیکن میرا اندازہ ہے کہ عبد السلام سینٹ جانز کالج 1947/48 میں عین اس وقت طالب علم بن کر پہنچا جب اس وقت غیر معمولی قسم کی سردی کے موسم کا دور دورہ تھا۔اس سرد موسم کا صحیح اندازہ کرنا کہ یہ کتنا نا موافق تھا یا اس کا محض تصور کرنا اس وقت تک لا محال ہے جب تک انسان نے جنگ عظیم دوم کے بعد کے سالوں کا خود تجربہ نہ کیا ہو۔ہمارے وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے تو ہمیں دھوپ بھرے علاقوں کے سہانے سپنے دکھلائے تھے مگر ہوا اس کے برعکس، یعنی ۴۸۔۱۹۴۷ کا بدترین موسم سرما۔میری رہائش سینٹ جانز کالج میں نیو کورٹ والے حصہ میں تھی۔جو اجتماعی رائے عامہ کے مطابق کالج کا بدترین حصہ تھا اس حصہ میں عمارتیں نصف انیسویں صدی کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کی گئیں تھیں ان کے اندر کمروں میں بڑی بڑی فائر پہلے سز اور وسیع وعریض چمنیاں تھیں جو کوئلہ برے طریق سے ہڑپ کرتی تھیں تا با انلر رومز کو سروس کیا جا سکے جو اکیڈیمک انجن کو سٹیم مہیا کرتا تھا اس کا ڈیزائن ایسا تھا کہ صبح کے وقت کالج کا ملازم اس کو روشن کرتا تھا پھر دن کے وقت بھی یہ سلسلہ متواتر جاری رہتا مگر یہ کام ۴۸ ۱۹۴۷ کے سالوں میں جاری رہ نہ سکا اگر اس سردی کے موسم میں ہم آگ جلانا چاہتے تو یہ کام خود کرنا پڑتا تھا۔بلکہ آگ جلانے کا سامان کو بھی خود ہی مہیا کرنا ہوتا تھا ہاں اگر کوئلہ ختم ہو جاتا تو یہ کام جاری نہ رہتا۔طلباء کو ۱۸۔نیو کورٹ Newcourt 18 میں سپر وائز کرنے کیلئے میرا پورے ہفتہ کا راشن کوئلوں کا ایک بیگ ہوتا تھا۔او پر بیان کردہ تکلیف کے برخلاف ہمارے لئے ایک luxury یعنی عیاشی والی چیز یہ ہوتی تھی کہ کالج میں ریاضی کی تعلیم کیلئے ابھی بھی چار لیکچرار ہوتے تھے۔Peter White & Smithies پور میتھ