مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 67
(12) انگریز قوم کے مزاج کی کوئی خاص تعریف نہیں ہوتی۔ریاضی کے شعبہ میں کالج کا سینیر لیکچرار ہونے کی بناء پر اس بات کی ذمہ داری کہ طلباء کو کن گروپس میں بانٹا جائے یہ پیٹر وائٹ White کے کندھوں پر پڑی۔عموماً دو یا سات طلباء کے گروپس بنائے جاتے تھے۔جو ایک سال تک برقرار رہتے بعض دفعہ اس میں معمولی تبدیلی ہو جاتی لیکن اکثر ایسا نہ ہوتا تھا ہر طالب علم کو ہفتہ میں دو گھنٹہ کی سپر ویژن ملتی تھی ایک گھنٹہ پور میتھ میں اور ایک گھنٹہ اپلائیڈ میتھ میں۔پھر ہم چار لیکچر ارز کے درمیان بھی alternation ہو تی تھی ایک ٹرم سے دوسری ٹرم تک یعنی وائٹ اور سمتھیز ایک ٹرم پور میتھ پڑھاتے اور میرے ساتھ ہاور تھ اپلائیڈ میتھ پڑھاتا اگلی ٹرم میں یہ بدل جاتا اور ہم دونوں پیور میتھ پڑھاتے تھے۔اس طریق کار سے کالج کے لیکچر ارز پر کم سے کم دباؤ اور بوجھ پڑتا تھا جبکہ چھوٹے کالجوں میں ایک لیکچرار پور میتھ پڑہا تا تو دوسرا اس کے ساتھ پیور میتھ پڑہا تا اور یوں طالب علم دونوں سے پڑھتے کالج میں لیکن بعض لیکچرار ایسے بھی ہوتے تھے جو پیور اور اپلائیڈ میتھ پڑھانا پسند کرتے تھے جیسے LA Pars جس کا تعلق جی سسر کالج Jesus College سے تھا اور Mr۔Ingham جس کا تعلق کنگز کالج سے تھا مجھے کسی نے بتلایا کہ میرے گریجویٹ طالب علموں میں سے J۔۔Narikar کنگز کالج کا آخری طالب علم تھا جس نے ۱۹۶۰ء کی دہائی میں دونوں مضامین پڑہائے تھے۔۔بہر حال عبد السلام ان نادر روزگار طالب علموں میں سے تھا جس کو صرف اکیلے پڑھایا جاتا تھا کیونکہ اس کا کلاس میں کوئی پارٹنر نہ بن سکا تھا جیسے کہ طلباء کے گروپس بنائے گئے تھے۔ہاورتھ نے فرسٹ ائیر میں اس کو پڑھایا ایک روز شام کو ڈنر کے بعد کافی پینے کے دوران اس نے مجھے بتلایا کہ اس کا ایک سٹوڈنٹ انڈیا سے آیا ہے جو بہت ہی لائق و فائق ہے یہ پہلا موقعہ تھا کہ مجھے عبد السلام کے بارہ میں کچھ معلوم ہوا۔ہاورتھ Howarth سے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ عبد السلام کی یہ ( عجیب سی ) عادت تھی کہ وہ جھک کر کالج کی کورٹس میں اسلامی (انڈین) طریق سے سلام کرتا تھا گویا اس کے گھٹنے اینٹوں کی سڑک کو لگ