مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 50
(۵۰) مذہب اسلام سے محبت ان کو اپنی زندگی کے اوائل سے ہی تھی خدا نے انکی رہ نمائی دعاؤں اور کشوف و روکیا سے کی اور انہوں نے حضرت خلیفتہ امی الاول کے ہاتھ پر ۱۹۱۴ ء میں احمدیت قبول کی جب وہ محض ۱۲ سال کے تھے میرے ابی کی پیدائش کے بعد انہوں نے اپنی زندگی اپنے بیٹے میں جملہ خوبیوں کو اجا گر کر نے اور انکے تعلیمی کیرئیر کو بہتر بنانے کیلئے وقف کر دی۔یہ میرے دادا ہی تھے جنہوں نے میرے ابی میں مطالعہ کا ذوق پیدا کیا اور ان میں عرق ریزی سے محنت کرنے کا نظم ونسق پیدا کیا۔دادا جان مرحوم و مغفور کا ایک ہر دلعزیز مقولہ یہ تھا Time & Tide wait for no man میرے پیارے ابی دادا مرحوم کے مکمل مطیع اور فرمانبردار تھے۔وہ انکی رہ نمائی کو بغیر سوچے و سمجھے قبول کرتے تھے میری دادی اماں کا نام ہاجرہ تھا جو حافظ نبی بخش صاحب کی دختر تھیں۔دادی اماں نہایت رحمدل۔سراپا محبت اور سادہ لوح انسان تھیں جب کبھی ابا جان امتحان کی تیاری کر رہے ہوتے تو وہ جائے نماز بچھا کر نوافل میں خشوع و خضوع سے دعا کرتیں کہ کامیابی انکے قدم چومے۔وہ میرے ابا جان کی بہت عزت کرتیں تھیں یہی حال ابی کا تھا۔جب میرے ابی نے نوبل انعام جیتا تو اس سے ملنے والی رقم سے انہوں نے مستحق طلباء کیلئے ایک سکالر شپ جاری کیا جس کا نام تھا۔محمد حسین اور ہاجرہ حسین فاؤنڈیشن ابی کی یہ وصیت تھی کہ بعد از وفات ان کو والدین کی قبروں کے ساتھ کی جگہہ میں دفنایا جائے چنانچہ اللہ کے خاص کرم سے ربوہ قبرستان میں ان کے لئے قبر کی جگہ محفوظ کر لی گئی تھی ان کی رحلت کے بعد میں اور میرا بھائی (احمد سلام) انکے کاغذات دیکھ رہے تھے تو پتہ چلا کہ انہوں نے وصیت نامے میں ایک بات کا اضافہ کیا تھا جو یہ تھا۔اگر کسی وجہ سے مجھے ربوہ نہ لے جایا جا سکے۔تو قبر کے کتبہ پر یہ عبارت کندہ ہو: اسکی خواہش تھی کہ وہ ماں کے قدموں میں دفن ھو۔پاکستان سے محبت