مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 51
(۵۱) ابا جان کی وطن عزیز سے محبت زبان زد عام تھی اگر چہ وطن والوں نے انکی قدر نہ کی ۱۹۵۳ء میں انہوں نے برطانیہ منتقل ہو نیکا کر بناک فیصلہ کیا تھا مگر اسکے باوجود انہوں نے ملک کی خدمت صدر ایوب خان کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے کی تھی۔مجھے خوب یاد ہے وہ اس وقت خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے جب ان کو ۱۹۵۹ء میں ستارہ پاکستان نوازا گیا۔جب احمدیوں کے خلاف ایذاء رسانی حد سے بڑھ گئی تو انہوں نے تمام سرکاری عہدوں سے تو استعفیٰ دے دیا مگر انہوں نے پاکستان میں سائینس اور ٹیکنالوجی لا نیکی کوششوں میں ذرہ بھر بھی کمی نہ آنے دی۔انہوں نے پاکستانی اسکالروں (خاص طور پر احمد یوں) کی اس دور میں ہر ممکن اعانت کی جو وہ کر سکتے تھے۔اگر چہ دوسرے ملکوں نے ان کو شہریت کی پیش کش کی تھی مگر انہوں نے ساری عمر اپنی قومیت نہ بدلی۔جب وہ سویڈن (نوبل) انعام وصول کرنے گئے تو انہوں نے پگڑی اور اچکن پہن کر اپنے وطن کا نام بلند کیا تھا۔سائینس سینٹر کا قیام ملک سے نقل مکانی کرنے کے تلخ تجربہ نے ہی تو انکو انٹرنیشنل سینٹر فار تھیور ٹیکل فزکس کی بنیاد رکھنے کی ترغیب دی تھی۔تا ترقی پذیر ممالک کے سائینس دان دور حاضر کے عظیم سائینس دانوں سے تربیت حاصل کر سکیں اور خود کو اپنے اپنے ممالک میں اکیلا محسوس نہ کریں جس طرح انہوں نے اپنے وطن میں کیا تھا۔سینٹر کا قیام ۱۹۶۴ء میں عمل میں آیا تھا اور اب تک غریب ممالک کے ہزاروں غریب طلباء اس سے مستفید ہو چکے ہیں۔پھر انہوں نے ترقی پذیر ممالک میں سائینس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے قعدة ورلڈ اکیڈیمی آف سائینس کی بنیاد رکھی۔ان کا ایک شہری خواب یہ بھی تھا کہ وہ کسی طرح بین الاقوامی یو نیورسٹی قائم کر سکیں۔تا اسلامی ممالک ایک بار پھر علم اور سائینس میں اپنا کھویا ہو ا مقام حاصل کر سکیں۔با و جود یکہ ان کو اتنی کامیابیاں اور آنر زملیں۔میرے ابی نے اپنی شخصیت میں غرور کو کبھی بھی ظاہر نہ ہونے دیا انہوں نے خود کو عظیم انسان تصور ہی نہ کیا۔اپنی عاجزانہ زندگی کے آغاز کو انہوں نے فراموش نہ کیا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ کبھی یہ نہ بھولے کہ جو بھی ان کو ملا یہ خداوند کریم کا انعام اور خاص عنایت تھی۔یہ وصف میرے والد اور سر محمد ظفر اللہ خان صاحب میں مشترک تھا ان دو انسانوں نے جو