مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 49
(۴۹) پچھلی بار سیکھا تھا اسکو دہراتے۔مزے کی بات یہ کہ وہ قوانین فزکس کو بیان کرنے میں بہت محو ہو جاتے اور ہم یہ سوچتے کہ آیا وہ کار کو بریک بھی لگائیں گے یا نہیں؟ تین باتوں سے عشق ابا جان کو تین باتوں سے وارفتہ لگاؤ تھا ایک تو قرآن مجید دوسرا والدین اور تیسرا وطن عزیز۔بچپن میں انہوں نے عربی زبان سیکھ لی تھی۔اسلئے وہ قرآن مجید کی آیات کے معانی سے پوری طرح واقف ہوتے تھے۔وہ آیات کریمہ پر خوب غور و خوص کیا کرتے تھے خاص طور پر وہ آیات جن کا تعلق سائینس سے ہے ان آیات سے وہ روحانی فیضان حاصل کرتے تھے تا وہ اپنی ریسرچ میں ان سے رہ نمائی اور بصیرت حاصل کر سکیں۔وہ اپنی تقاریر ہمیشہ درج ذیل قرآنی دعا سے شروع کیا کرتے تھے: ربنا و آتنا ما وعدتنا على رسلك ولا تخزنا يوم القيامة انك لا تخلف الميعاد (سورۃ ۳ آیت (۱۹۵) ہمارے گھر میں وہ اکثر قرآن پاک کی تلاوت ٹیپ کیسیٹ پر سنا کرتے تھے اپنی تقاریر میں وہ آیات قرآنی کے حوالے دیتے نوبل انعام کی تقریب کے موقعہ پر ابا جان کو بین کوئیٹ کے موقعہ پر ایڈریس پیش کرنیکی عزت و توقیر دی گئی۔اس ایڈریس میں انہوں نے سائینس اور مذہب پر بحث کرتے ہوئے قرآن مجید کی درج ذیل آیت پیش کی تھی: الذي خلق سبع سموت طباقا - ما ترى في خلق الرحمن من تفوت۔فا رجع البصر هل ترى من فطور ثم ارجع البصر كرتين ينقلب اليك البصر خاسئاً وَ هُو حَسِير ( سورة الملک آیت اور ۵) والدین سے محبت ابا جان کی اپنے والدین کیلئے محبت اور ان کا اپنے بیٹے کیلئے والہانہ عشق فقید المثال تھا میرے دادا جان چو ہدری محمد حسین صاحب بذات خود ایک ممتاز شخصیت کے مالک تھے اللہ تعالیٰ سے عشق اور