مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 46 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 46

(۴۶) کو ترجیح دی تھی کیونکہ یہاں کے دلپذیر باغات سب سے زیادہ حسین تھے۔میرے ابا جان کا ایک ہر دلعزیز مشغلہ ہمیں دریا پر لے جا کر پینٹنگ Punting کرنا ہوتا تھا پٹ ایک چھوٹی سی کشتی ہوتی ہے۔جس کو ایک شخص کشتی میں پیچھے بیٹھ کر لانگ پول سے آگے دھکیلتا ہے بجائے گنڈولا جیسی کشتی کے۔میں اور میری والدہ آگے بیٹھتے تھے۔اور ابا جان پول سنبھالتے تھے بعض دفعہ پول پانی میں گر جا تا تھا۔تو پھر کنارے تک پہنچنے کے لئے چھوٹا پیڈل استعمال کیا جاتا تھا۔کچھ سالوں کے بعد ہم لندن منتقل ہو گئے میرے والد کی امپیرئیل کالج لندن میں پروفیسر کے طور پر تعیناتی ہو گئی اور وہ اپنے علمی کاموں اور ریسرچ میں حد سے زیادہ مصروف ہو گئے وہ تمام دنیا کے سفر کرنے لگے۔بعض دفعہ وہ ایک ہفتہ کے دوران چار پانچ ملکوں میں لیکچر دیتے تھے۔مگر اس کے باوجود وہ ہماری تعلیم اور تربیت کی نگرانی کے لئے وقت نکال لیتے تھے۔جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے وہ اس معاملہ میں کافی سختی کرتے تھے وہ ہم سب کو درک بکس لا کر دیتے اور پھر کالج جانے سے قبل ان صفحات کی نشاندہی کر جاتے جنکا مطالعہ ہمیں کرنا ہوتا تھا جب وہ سمندر پار کے سفروں سے واپس آتے تو ہر ایک کو اپنے کمرہ میں بلاتے اور ہمارے گریڈز اور تعلیمی پروگریس کے بارہ میں استفسار کرتے وہ ہماری دلد ہی کرتے اور اپنے اس محبوب مقولہ سے ہمارے اعتماد میں اضافہ کرتے۔پوری پوری کوشش کرو۔باقی اللہ پر چھوڑ دو۔وہ ہم سے بہتر سے بہتر تعلیمی ریکارڈ کی توقع رکھتے تھے اور اکثر ہمیں زیادہ سے زیادہ محنت کر نیکی نصیحت کرتے تھے۔وہ خود بھی ہر وقت کام میں مگن رہتے تھے ۱۹۶۴ء میں ٹریسٹ میں انٹرنیشنل کالج فار تھیور نکیل پار میکلز کے آغاز کے بعد وہ مسلسل لندن اور ٹریسٹ (اٹلی) کے درمیان سفر کرتے تھے ہمارے گھر میں بھی وہ اکثر گھنٹوں مطالعہ میں منہمک رہتے تھے اور بعض دفعہ تو وہ کمرے سے باہر صرف کھانا تناول کرنے کیلئے آتے تھے۔ابی نے اپنے کمرے میں محبت کی فضا پیدا کی ہوتی تھی جس میں پر اسراری بھی شامل تھی ان کے کمرہ کا ٹمپریچر ہمیشہ اونچا ہو تھا تھا کہ موسم گرما میں بھی درجہ حرارت کافی اونچا ہوتا تھا اس کے ساتھ کمرہ کے بعض کونوں میں اگر بتیاں جل رہی ہوتی تھیں جن کے خوشبودار دھوئیں سے کمرہ بھرا ہوتا تھا۔