مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 45
(۴۵) کا انتظام فرمایا جہاں آپ نے ریاضی اور فزکس میں double tripos کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری کیلئے ریسرچ کا کام شروع کر دیا ، جو انہوں نے حیرت انگیز طریق سے پانچ ماہ میں مکمل کر لیا ڈاکٹریٹ کیلئے جو تحقیقی کام آپ نے کیا اس کی بنیاد پر آپ کو Smithz Prize سمتھ پرائز سے نوازا گیا۔اس کے بعد پرنسٹن یونیورسٹی۔(نیو جرسی۔امریکہ) نے آپ کو وہاں آئیکی دعوت دی جہاں آپ نے آئن سٹائن کے ساتھ ایک سال تحقیقی کام کیا۔اس کے بعد آپ پاکستان واپس آگئے اس موہوم امید پر کہ وہ تدریس اور تحقیق کا کام وطن عزیز میں کر سکیں گے۔مگر یہ بات جلد ہی ان پر منکشف ہو گئی کہ آپ جیسی قابلیت والے جو ہروں کے لئے اس ملک میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔لہذا آپ دل بر داشتہ ہو کر ۱۹۵۳ء میں کیمبرج واپس لوٹ آئے مگر اس بار ان کے ساتھ میں اور میری والدہ تھے۔اس کے بعد فزکس کے علمی میدان میں آپ کی کامیابیوں کا کوئی شمار نہیں تھا آپ نے زندگی میں ۲۵۰ کے قریب تحقیقی مضامین تحریر کئے آپکو بے شمار توثیق نامے۔سرفرازیاں۔عزت افزائیاں اور بے شمار ایوارڈ دئے گئے ان میں بہت سے ایسے تھے جن کے وصول کرنے والے آپ سب سے پہلے تھے مثلا آپ پہلے پاکستانی نیز سب سے کم عمر نوجوان تھے جس کو رائیل سوسائٹی کا ممبر بنایا گیا۔اور لندن یو نیورسٹی میں آپ سب سے پہلے کم عمر پر و فیسر تھے آپ پہلے شخص تھے جسے جیمز میکسویل Maxwell میڈل دیا گیا آپ کو ایٹم فار پیس پرائز دیا گیا۔اس کے ساتھ درجنوں انعامات اور میڈل ملے تا آنکہ ۱۹۷۹ء میں نوبل انعام سب سے پہلے مسلمان سائینسدان اور پہلے پاکستانی کو ایسا بین الاقوامی انعام ملا۔آپ کو ۲۴ ایوارڈ اور میڈل ملے۔۲۵ ممالک کی سائینس اکیڈمیوں کے آپ ممبر تھے آپ کو ۳۶ آخر یری ڈاکٹریٹ ڈگریاں ملیں اور ۱۹۸۹ء میں برطانیہ کی ملکہ معظمہ نے آپکو آنریری نائیٹ ہوڈ سے نوازا۔میرے ابی کی یادیں میرے ذہن میں اس وقت سے ہیں جب میں نے اور میری والدہ نے کیمبرج نقل مکانی کی تھی اس وقت میری عمر تین سال کی تھی کیمبرج ایک خوبصورت یو نیورسٹی ٹاؤن ہے جو کیم CAM دریا کے کنارے آباد ہے۔ہماری رہائش سینٹ جانز کالج کے پاس چھوٹے سے فلیٹ میں تھی جہاں میرے والد بر سر روزگار تھے انہوں نے ٹرینیٹی کالج کی بجائے سینٹ جانز کالج میں ملازمت