مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 47 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 47

(۴۷) اسکے بیک گراؤنڈ میں قرآن پاک کی تلاوت کا ٹیپ کیسٹ لگا ہوتا تھا چنانچہ اللہ کا کلام ان کے خیالات میں ہمیشہ سمویا ہوتا تھا۔جس کا اظہار ان کے مضامین اور تحریروں سے بخوبی ہوتا ہے با ہر سڑک سے آنے والے شور کو کم کرنے کیلئے کمرہ کی کھڑکیوں کے ویلویٹ کے پر دے اکثر کھینچے ہوتے تھے بچپن سے ہی ہم سب کو تنبیہ تھی کہ جب وہ اپنے کمرہ میں ہوں تو نہ تو اونچی آواز میں بولیں اور نہ ہی بھا گئیں دوڑیں۔اگر فون کی گھنٹی ایک سے زیادہ دفعہ بجتی تو فون کو ریسیور سے اتار کر نیچے رکھ دیا جاتا تھا۔ابا جان نے اپنے تحقیق کے کام کی عادات کا روزانہ معمول طے کیا ہو اتھا اس پر وہ مذہبی فریضہ کی طرح کار بند رہتے تھے اس فریضہ کو وہ نیند کے وقفوں اور میٹھی گرما گرم چائے سے نباہتے تھے وہ درج ذیل مقولہ پر سختی سے عمل کرتے تھے۔wealthy and wise وہ رات آٹھ یا نو بجے بستر پر چلے جاتے پھر چند گھنٹوں بعد بیدار ہو کر وہ رات کی خوشی میں تحقیق کا کام کرتے۔تا آنکہ پو پھٹنے کے وقت ان کی قوت ارتکاز اور قوت تخلیق چوٹی پر ہوتی اس ارتکاز کو برقرار رکھنے کیلئے گرم میٹھی چائے سے بھرا تھر موس اور کچھ کھانے کی چیزیں ہم سونے سے قبل انکے بستر کے قریب رکھ دیتے تھے۔Early to bed early to rise, makes man healthy, ان کی میراث میرے پیارے ابی کی سب سے بڑی میراث ان کتابوں کا خزانہ ہے جو وہ ہمارے لئے چھوڑ گئے نیز علم سے بے تاب لگن جو وہ ہم میں نمود کر گئے بعض دفعہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ سانس لینا اور مطالعہ کرنا انکی فطرت کا حصہ بن چکا تھا۔انہوں نے ہر موضوع پر کتب کا مطالعہ کیا نیز انکا علم مختلف موضوعات پر بحر بیکراں کی طرح تھا نئی اور پرانی کتب خرید نا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ہمارے گھر کا کوئی کمرہ بشمول ہاتھ روم کے ایسا نہ تھا جس میں دیواروں پر بک شیلف نہ لگے ہوں اور یہ کتابوں سے بھرے ہوتے تھے ابا جان دنیا کے سفروں کے بعد گھر واپس آتے تو انکا سوٹ کیس کتابوں کے وزن سے پھٹ رہا ہوتا تھا اور میری امی جان کو یہ فکر دامن گیر ہوتی کہ نئی کتا ہیں اب کہاں رکھیں گے۔سب سے اہم چیز جو ہمارے والد نے ہمیں سکھلائی وہ وقت کی اہمیت تھی ان کے نزدیک