مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 44
(۴۴) یقیناً اس پیش گوئی کا مصداق بن کر اس سے بار آور ہونے والے پھلوں میں سے پہلا پھل تھے۔جس کے مطابق حضرت احمد علیہ السلام کے پیرو کارو علم کی بلندیوں کو چھوئیں گے نیز وہ اس دنیا میں اعلیٰ مقام پائیں گے اس لحاظ سے میرے پیارے ابا جان کے کئی اور سنہری روپ تھے سائینس دان۔استاد۔بین الا قوامی شخصیت۔تیسری دنیا کے سنہری مستقبل بنانے کے چمپئین اور بلاشبہ ایک مشفق باپ۔میرے ابی کی غیر معمولی کہانی کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب میرے دادا کو ان کی ولادت با سعادت کی خبر ایک رویا کے ذریعہ دی گئی۔۲ جون ۱۹۲۵ء کے روز میرے دادا جان جھنگ میں واقع احمد یہ مسجد میں نماز مغرب ادا کر رہے تھے انہوں نے درج ذیل تلاوت کی آئیت ختم ہی کی تھی۔۔ربنا هب لنا من أزواجنا وذريتنا قرة أعين واجعلنا للمتقين اماما ( قرآن پاک سورۃ ۲۵ آیت ۷۵) کہ انہوں نے کشف میں دیکھا کہ ان کو ایک بچہ تھمایا گیا ہے۔پوچھنے پر کہ یہ بچہ کون ہے؟ جو اباً بتلایا گیا کہ اسکا نام عبد السلام ہے چنانچہ میرے ابا جان کی ولادت ۲۹ جنوری ۱۹۲۶ء کو جھنگ شہر میں ہوئی اور آپ کا نام عبد السلام رکھا گیا جس کے معنی ہیں امن کا بندہ۔جھنگ اس وقت پنجاب کا ایک معمولی سا قصبہ بلکہ معمولی سا گاؤں تھا۔جس میں اس وقت بجلی ابھی نہیں آئی تھی۔آپ کا خاندان زیادہ مالدار نہ تھا۔لیکن اس میں تقوی۔علمی فضیلت اور مذہبی علوم کے تحصیل کی روایت لمبے عرصہ سے چلی آ رہی تھی۔اوائل عمر سے ہی آپ میں ذہانت اور فطانت کے آثار نظر آتے تھے۔فی الحقیقت دو سال کی عمر میں آپ نے سب سے صحت مند بچہ ہونیکی بناء پر جھنگ میں انعام جیتا تھا۔میرے دادا محترم جو اس وقت ڈسٹرکٹ اسکولز کے سپر نٹنڈنٹ تھے انہوں نے اپنے جیکس بیٹے کی صحیح رنگ میں تعلیمی پرورش کی اور اسکی علم سے والہانہ محبت کی حوصلہ افزائی کی۔میرے ابی نے چھ سال کی عمر میں سکول جانا شروع کیا اور سیدھے چوتھی جماعت میں داخلہ مل گیا جلد ہی آپ نے امتحانات میں ریکارڈ توڑنا شروع کئے اور ہیں سال کی عمر میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔موٹی کریم نے ۱۹۴۶ء میں میرے والد کی کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم کیلئے غیب سے سکالرشپ