مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 324 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 324

LL_۔(۳۲۴) رسالہ اپنا گھر کراچی، نے ۶ ستمبر ۱۹۹۲ء کو ڈاکٹر سلام کا انٹر ویو شائع کیا اور پوچھا: سوال: کہا جاتا ہے کہ چار قوتوں کے مابین آپ جو وحدت تلاش کر رہے ہیں وہ آپ کے توحید کے عقیدہ پر یقین کی وجہ سے ہے؟ جواب: آدمی کے خیالات و نظریات پر اس کی ثقافتی میراث اور تمدنی روایات کا اثر ہوتا ہے۔میرے نظرئے اور عقیدے کی اساس تو حید ربانی ہے اور یہ عین حقیقت ہے کہ نظریہ تو حید کا میں قائل تھا۔خود سائینس میں بھی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ اصول جہاں تک ہو سکے کم سے کم ہوں۔لیکن یہ اصول بلکل سادہ اور مختصر ہونے چاہئیں۔ZA میری زندگی میں فقط دو دکھ ہی ہیں۔ایک تو یہ کہ پاکستان میں سائینسدانوں کی اتنی تو قیر نہیں کی جاتی جتنی ہونی چاہئے۔دوسرے یہ کہ عالم اسلام میں سائینس کی قدر نہیں کی جاتی۔(عبد السلام )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جولائی ۱۹۸۰ء میں ٹورنٹو کے مشہور ریڈیو CHIN اسٹیشن کے جرنلسٹ پروفیسر نر ندرناتھ نے ڈاکٹر سلام کا انٹرویو فون پر لیا جب آپ نیو یارک میں سفر کے دوران مقیم تھے۔اس اہم انٹرویو کا انتظام زکریا ورک نے کروایا تھا، آپ سے سوال کیا گیا، آپ روزانہ اندازاً کتنے گھنٹے کام کرتے ہیں؟ جواب: میرے اوقات کچھ اس طرح ہیں کہ میں پانچ بجے کے قریب اٹھتا ہوں جس طرح ہمارے ملک میں صبح اٹھنے کی عادات ڈالی جاتی ہے۔اس کے بعد نماز پڑہنے کے بعد ناشتہ کرتا ہوں اور پھر کام شروع کر دیتا ہوں۔آٹھ بجے کے قریب اپنے دفتر جاتا ہوں، اٹلی میں میرا دفتر ساتھ ہی ہے اور وہاں کوئی سات بجے شام تک کام میں مصروف رہتا ہوں۔شام کو جب میں گھر آتا ہوں تو جلدی سو جاتا ہوں۔(رموز فطرت ، صفحہ ۱۷۳۔مؤلف کتاب کے پاس یہ کیسٹ ابھی تک محفوظ ہے۔)