مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 325 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 325

(۳۲۵) Whenever faced with two rival theories for the same set of phenomena one has always found that a theory more aesthetically satisfying is also the correct one۔(Dr۔Salam) AL۔چوہدری عبد الحمید (لاہور، برادر اصغر ڈاکٹر سلام ) نے بیان کیا: نوبل انعام ملنے کے بعد ڈاکٹر سلام ۱۵ دسمبر ۱۹۷۹ء کو کراچی تشریف لائے۔اسکے بعد وہ اسلام آباد ۱۸ دسمبر کو گئے۔اگلے روز نیشنل اسمبلی ہال میں جنرل ضیاء الحق نے بہ حیثیت چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی آپ کو ڈاکٹر آف سائینس کی آنریری ڈگری دی۔کنور کیشن سے قبل عصر کی نماز ادا کر نے کیلئے لوگ ہال میں سے نکل رہے تھے تو جنرل ضیاء الحق نے ڈاکٹر صاحب سے مخاطب ہو کر کہا: پروفیسر صاحب، کیا آپ ہمارے ساتھ نماز ادا کریں گے یا علیحدہ پڑہیں گے؟ پروفیسر سلام: سر، میں نماز علیحدہ پڑھوں گا۔جنرل صاحب: مجھے پتہ ہے کہ آپ ہم سے اچھے مسلمان ہیں پروفیسر سلام: کیا میں آپ کا یہ بیان اخبارات میں شائع کروا سکتا ہوں؟ جنرل صاحب: ضرور کروائیں، لیکن میں انکار کر دوں گا۔آپ کے امیریکن شاگرد ڈاکٹر ڈف (DUFF) نے بیان کیا: ایسے شخص کا شاگرد ہونا جو نئے نئے آئیڈیاز سے ہر آن ہر لمحہ ابل رہا ہو جیسے عبد السلام تھا یہ ایک قسم کی رحمت کے بھیس میں زحمت تھی۔وہ ریسرچ کا کام ایک طالب علم کو دے دیتا پھر خود اپنے عالمی سفروں پر مسلسل کئی ہفتوں کیلئے روانہ ہو جاتا تھا ( اس صورت میں میں اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالہ کے لکھنے میں عملی مدد کیلئے Chris Isham کی طرف رجوع کرتا تھا)۔جب وہ واپس لوٹ کر آتا تو طالب علم سے سوال کرتا۔تم کس چیز پر تحقیق کر رہے ہو جب شاگرد وہ معمولی کام جو اس عرصہ میں کیا ہوتا اسکو بیان کرنا شروع کرتا تو عموما وہ جوابا کہتا۔نہیں نہیں، یہ پرابلم تو بہت پرانی ہو چکی ہے تم کو تو جس مو