مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 323
احمد سلام (لندن) نے بیان کیا: (۳۲۳) ابی گہری نیند سوتے تھے میں حیران رہ جاتا کہ وہ کیسے آسانی سے آنکھیں بند کرتے ہی سو جاتے ہیں۔جہاں کہیں بھی ہوں، کار میں یا جہاز میں، جب بھی انہیں چند فرصت کے لمحات ملتے وہ سو جاتے۔کام کرنے میں بھی یہی طریق تھا ، جہاں بھی وقت ملتا وہ نوٹس لکھ لیتے۔جو چیز ملتی اخبار رومال، یا اور کچھ نہیں تو ہاتھ پر ہی اپنے آئیڈیاز تحریر کر لیتے۔( تا وہ آئیڈیا زہن سے محو نہ ہو جائے) ایک دفعہ ابا جان ملکه برطانیه۔ایلزبیتھ دوم - کی دعوت پر ایچ میں شرکت کیلئے قصر بمنگھم گئے۔پنچ کے بعد ملکہ معظمہ کے رخصت ہونے پر ابی نے اپنا نیپ کن Napkin واپس لے لیا۔۷۵- ڈاکٹر عبد السلام نے ایک دفعہ پچاس سے زیادہ مسلمان ممالک کے ممتاز فقہاء اور علماء کرام کی خدمت میں عریضہ روانہ کیا اور کہا کہ قرآن مجید میں صدیوں آیات کریمہ ایسی ہیں جن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق عالم اور دیگر سائینسی حقائق و شواہد کی طرف انسان کی توجہ مبذول کروائی ہے۔اگر ہر مہینے جمعۃ المبارک کے چار خطبات میں سے صرف ایک خطبہ میں وہ کسی ایک آیت کریمہ کی تشریح وتغییر فرما دیں تو مسلمان نوجوان رفتہ رفتہ سائینسی علوم کی طرف راغب ہونا شروع ہو جا ئیں گے۔غور فرمائیں کہ پچاس ممالک میں سے صرف چند ایک نے جواب دینے کی تکلیف گوارا کی اور معذرت کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہم ایسا کرنے کو تیار ہیں مگر اس موضوع پر زیادہ مواد میسر نہیں ہے۔ڈان اخبار کے معروف و مقبول کالم نویس اردشیر کاؤس جی نے بتایا: میں ڈاکٹر سلام سے ان کو نوبل انعام ملنے کے بعد ملا اور پوچھا کہ پاکستان کی حکومت نے ۱۹۸۴ء میں آرڈی نینس پاس کر کے جو سلوک آپ کے ساتھ کیا ہے۔اس کے بعد کیا آپ خود کو ابھی تک مسلمان اور پاکستانی خیال کرتے ہیں: ڈاکٹر سلام نے جواب دیا۔Does it really matter