مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 262
(۲۶۲) (۵) گیج وحدت کا نظریہ اس کے بعد انہوں نے نیوٹر نیو کیلئے اپنی کا کرال سیمٹری کے نظرئے کو بڑھا کر اس کو الیکٹران اور میو آن پر بھی لاگو کیا۔چونکہ الیکٹران اور میو آن کی کمیت صفر نہیں ہوتی اسی لئے شروع میں ری نارملا ئزیشن برقرار رکھنے کیلئے تو یہ ذرات صفر مقدار مادے کیلئے جاتے ہیں۔بعد میں سیمری ٹیا از خود شکستگی spontaneous symmetry breaking کی مدد سے غیر صفر کمیت ظہور میں لا کی جاتی ہے ان : رات کی کا ئرال سیمٹری chiral کا ایک نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ویک نیوکلئیر فورس کے ماتحت زوالوں pecay کیلئے اسپین واحد بوسان ( وہ ذرات جن پر بوس، آئن سٹائن شماریات لاگو ہوتی ہے اور جو کہ Intermediate vector bosons کہلاتے ہیں کے تبادلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان ذرات کی کمیت بہت زیادہ ہونی چاہئے کیونکہ ویک فورس کا دائرہ عمل یعنی Range بہت کم ہوتا ہے اس کے برعکس برق مقناطیس تفاعل کیلئے فوٹان کے تبادلے کی ضرورت ہوتی ہے (اس قوت کا دائرہ عمل بہت دور تک ہوتا ہے ) بوسان اور فوٹان کے اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوانٹم الکٹرو ڈائی نامیکس QED کا نظریہ تو مقامی گیج یعنی locally guage invariant کی صفت رکھتا ہے اور ری نار ما !! ئزیشن کے قابل ہوتا ہے مگر ضعیف تفاعل کے (نظریہ کی غیر صفر کمیت کی وجہ سے ) میں یہ صفت نہیں ہوتی ہے۔۱۹۵۹ء میں عبد السلام اور وارڈ اور الگ سے گلیشا ؤ نے ان نظریات کو استعمال کر کے ویک نیو کلئر فورس اور برق مقنا طیس کو یک جا کرنے کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں کافی ترقی کی۔بعد میں ۱۹۶۱ء میں گلیشا ؤ اور ۱۹۶۴ء میں عبد السلام اور وارڈ دونوں نے برق مقناطیس کرنٹ اور و یک نیوٹرل کرنٹ اور ان سے متعلق صحیح نظریات کی اہمیت پر زور دیا۔اس دوران عبد السلام نے ڈاکٹر سٹیون وائن برگ کے ساتھ مل کر ان ہی مسائل سے متعلق ایک مشہور تھیورم کا ثبوت مہیا کیا یہ گولڈ اسٹون تھیورم کہلاتا ہے اس تھیورم کے تحت از خود شکستہ سیمٹری کی وجہ سے زیرو اسپن کے ذرات کا ظہور پذیر ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ ایسے ذرات کی تجرباتی تصدیق نہیں