مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 263
(۲۶۳) ہے۔اس دشواری سے نکلنے کا راستہ امپیرئیل کالج لندن کے کئی ریسرچرز کے مشترکہ کاوشوں سے مل گیا۔یہ Higgs Mechanism کہلاتی ہے۔آخر کار ۶۸۔۱۹۶۷ء کے دوران عبد السلام اور وائن برگ نے الگ الگ ریسرچ کر کے از خود شکسته گیج نظر یہ مکمل کر لیا جو کہ (1)SU(2) XU) کہلاتا ہے جو کہ دو بنیادی قوتوں یعنی و یک نیوکلئیر فورس اور برق مقناطیس کو ایک ثابت کرتا ہے اس میں ایک پیرا میٹر کی مدد سے دونوں قوتوں سے متعلق تمام طبعی واقعات کو بیان کیا جا سکتا ہے۔اس طرح وحدت کا پرانا خواب جزوی طور پر پورا ہو جاتا ہے اس تحقیقی کام کی بناء پر عبد السلام ، وائن برگ اور گلیشا و کو۱۹۷۹ء میں فزکس کا نوبل انعام دیا گیا۔۱۹۷۰ء میں گلیشا ؤ اور ان کے ساتھ کام کرنیوالے محققوں نے چار قسم کے کوارک کو استعمال کر کے ہیڈران ذرات کو بھی اس تھیوری میں شامل کر دیا اس کا ثبوت ڈچ سائنسدان ٹی ہوفٹ T Hooft نے مہیا کر کے اس میدان میں تحقیقی کاموں میں جان ڈال دی اور ماہرین طبیعات اس نوع کے نظریات پر مزید تحقیق گرم جوشی سے کرنے لگے۔(۶) و یک نیوٹرل کرنٹ او پر پیش کردہ نظرے کے ماتحت فوٹان کے علاوہ ایک نئے ذرے نیوٹرل وکٹر بوسان کا ہونا بھی ضروری ہے۔جو کہ لیپٹان ذرات اور کوارک ذرات سے منسلک ہوتا ہے۔اور و یک نیوٹرل کرنٹ کا باعث ہوتا ہے۔اسی طرح سے ویک چارج کرنٹ W ذرات کے تبادلے کی وجہ سے ہوتے_ +W ذرات کا ہونا پہلے سے سوچا جارہا تھا مگر 2 ذرے کی پیش گوئی عبد السلام اور وائن برگ کی دین ہے اس کے علاوہ اس نظرے نے ان ذرات کی کمیتوں کے متعلق بھی ٹھوس پیش گوئی کر دی۔۱۹۷۳ء میں جینیوا (سوئزرلینڈ) کی تجربہ گاہ CERN میں ویک نیوٹرل کرنٹ دریافت ہوگئی اور اس سے علم طبیعات کی دنیا میں جہل کا بچ گیا اور وحدت کے نظریات کے انداز فکر میں جان پڑ گئی۔بعدہ اس طرح کے نیوٹرل کرنٹ کی تجرباتی تصدیق امریکہ کی مختلف لیبارٹریز جیسے فرمی لیب۔(شکا گو) بروک ہیون Brookhaven۔اور SLAC میں بھی ہو گئی اس طرح سے وحدت کے اس تصور میں کشش زیادہ سے