مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 261 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 261

(۲۶۱) مقام افسوس هے کہ یانگ اور لی کو اس ریسرچ کے کام کی بناء پر نوبل پر ائز سے نوازا گیا جبکہ ڈاکٹر سلام کو نظر انداز کر دیا گیا کیونکہ وہ کم عمر تھے اوران کا تعلق تیسری دنیا سے تھا۔(۳) ذرات کی یکسانیت اوپر بیان کردہ کام کے بعد انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دی کہ کیا یہ تمام بنیادی ذرات بنیادی کہلائے جاسکتے ہیں ؟ یا ان میں سے کچھ دوسروں کی نسبت زیادہ بنیادی ہیں؟ ان پیچیدہ سوالات کے جوابات کی تلاش کے سلسلے میں انہوں نے بنیادی ذرات کے یکساں خواص symmetry properties پر بڑا زور دیا اور فیملی گروپ کی تلاش کی تاکہ معلوم ہو کہ اگر ایک ذرہ پایا جا تا ہے تو دوسرے ذرات جو سیکٹری پرنسپل کے تحت اس فیملی گروپ میں شامل ہوں گے ان کے متعلق پیش گوئی کی جاسکے۔(۴) یو نیٹری سیمٹری اس سلسلہ میں جاپانی سائینسدان او بنو کی Ohnuki نے ۱۹۶۰ء میں : رات کے مابین یو نیٹری او کی سیمٹری کے نظرے کو اجاگر کیا۔ڈاکٹر سلام نے اس نظریہ کی پر جوش حمایت کی اور مسٹر وارڈ Ward کے ساتھ مل کر ۱۹۶۱ء میں آٹھ ذرات پر مشتمل ذرات کے ایک نئے خاندان (جن کی اسپن واحد ہے ) کی پیش گوئی کی۔یہ ذرات کچھ ماہ بعد تجربات سے دریافت ہو گئے ، اسی زمانے میں عبد السلام کے ماتحت کام کر نیوالے اسرائیلی سائینسی محقق یوال نی مان نے یہ ثابت کر دیا کہ اہم بنیادی ذرے پروٹان، نیوٹران بھی اسی طرح کے ہشت پہلو یعنی Eight fold سیمٹری کے ایک خاندان میں شامل ہیں۔امیر یکہ میں مرے جیل مان Cellman نے اس طرح کے نظرے کو استعمال میں لا کر اومیگا مائی نیں ذرے کی پیش گوئی کی جو کہ ۱۹۶۴ء میں دریافت ہو گیا اور اس طرح یو نیٹری سیمٹری نظرئے کی تجرباتی تصدیق ہوگئی اور بعد میں یہ اور ترقیوں کا ذریعہ بنا۔مثلاً عبدالسلام نے رابرٹ ڈل بورگو اور جان سٹراھد کی Stradthee کے ساتھ مل کر زمان اور مکان کی فور ڈائی مینشنز کو استعمال کر کے Symmetry pattern دریافت کیا۔