مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 260 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 260

(۲۶۰) نی Party سے مراد اس عمل سے ہے جو کسی وہ تھے اور آئینے میں اس کے عکس کی یکسانیت یا سیمٹری کے تعلق کو بیان کرتا ہے۔۱۹۵۶ء تک خیال تھا کہ مدت نے دائیں اور بانہیں میں کوئی بنیادی فرق نہیں رکھا ہے اور تمام قوانین فطرت پیرے ٹی برقرار رکھنے نا شرط کے پابند ہوں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ جب ایک ریڈیو ایکٹو اپنے نیوکلیس سے بیٹا پارٹیکل یعنی الیکٹران کو خارج کر کے زوال پذیر ہوتا ہے اور ساتھ میں نیوٹرینو بھی خارج ہوتے ہیں تو پیرے ٹی برقرار رکھنے والی شرط کے تحت اس بات کا احتمال کہ یہ ذرات نکلتے وقت بائیں طرف یا دائیں طرف گھومیں گے یہ برابر ہو گا ، ۱۹۵۶ء میں امریکی شہریت والے ماہر طبیعات دان لی اور یانگ نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ضعیف نیوکلئیر قوتوں کیلئے پیرے ٹی کا قانون من سب نہیں ہے۔لہذا اوپر والی مثال میں دائیں اور بائیں طرف گھومنے والے الیکٹران کی تعداد برابر نہ ہو گی۔اگلے سال یہ بات لیبارٹری میں ثابت ہو گئی اس بارہ میں سوئزرلینڈ کے طبیعات دان وولف گانگ پالی نے کھا تھا کہ ایسا لگتا هے که خدا بائیں ها ته والا هے؟ ڈاکٹر سلام کے نزدیک پیرے ٹی وائیولیشن برقرار رکھنے کے اصول کے ٹوٹنے کی وجہ سے قانون فطرت میں جو بدشکلی پیدا ہوتی ہے اس کا کوئی نہایت بنیادی جواز ہونا لازمی ہے۔تا کہ یہ بد شکلی قابل قبول بن سکے۔انہوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ کسی نے نیوٹرینڈ کے زیرو ماس zero mass ہونے کی کوئی وجہ نہیں پیش کی ہے۔تب انہوں نے ۱۹۵۷ء میں نیوٹرینو کے متعلق نیا نظریہ پیش کیا کہ یہ پارٹیکل اس خصوصیت کا حامل ہے کہ اس کی ایک مخصوص Helicity ہے ( یعنی گھومتے وقت یہ صرف ایک ہی مخصوص سمت میں گھومتا ہے ) اس کے نتیجہ میں نہ تو اس میں کمیت ہوتی ہے اور نہ ہی یہ پیرے ٹی کے اصول کو مانتا ہے۔نیوٹر مینو کا یہ نظریہ Two Component Theory of Neutrino یا پھر کا ئرل سیمٹری chiral symmetry کہلاتا ہے۔یہی بات ۱۹۵۷ء میں روسی سائینسدان لینڈ اؤ Landau اور الگ سے یانگ اور لی سائینسدانوں نے بھی ثابت کی۔اس تصور کو بڑھانے کے بعد و یک انٹر ایکشن کا موجودہ نظر یہ قیام میں آیا۔