مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 210
(۲۱۰) مقنا طیس لے اور اس کے اوپر موونگ چارج رکھ دے تو موونگ چارج بھی مقناطیس کی طرح کام کرتا ہے۔یوں ان قوتوں کے اتحاد کا آغاز ہوا۔یوں ان دو افراد نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ایسے نظریات بنیادی۔اتحاد کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔میکس ویل اپنے دور بلکہ تمام ادوار کا سب سے عظیم سائینسدان تھا۔اس نے کہا کہ اگر آپ موونگ الیکٹرک چارج لیں تو اس سے ریڈی ایشن پیدا ہوتی ہے۔یہ ریڈی ایشن بلکل ایکس رے کی طرح ہے یا ریڈیو ویوز کی طرح، اس وقت ریڈیو ویوز دریافت نہ ہوئے تھے اس نے ان کی پیش گوئی ایک نمبر کی بنیاد پر کی تھی۔اس نے ایک نمبر ایجاد کیا تا کہ دیو ویلا سے ٹی wave velocity کا نمبر تلاش کیا جا سکے جو بعد میں لائٹ کی ولا سے ٹی velocity کا نمبر نکلا جس کا سائینسدانوں کو علم تھا چنانچہ اس نے حتماً کہا کہ لائیٹ کچھ بھی نہیں ، ماسوائے الیکٹرو میگنٹک ویوز کے، جومونگ چارج سے پیدا ہوتی ہیں۔دس سال بعد ریڈیو ویوز پروڈیوس کی گئیں جسطرح اس نے شروع میں کہا تھا۔اب ہم جانتے ہیں کہ فورسز ریڈے ایشن کے ذریعہ ٹرانسمٹ ہوتی ہیں۔اور یوں باقی کی فورسز بھی۔جب و یک نیوکلئیر فورس دریافت ہوئی تو سوال پیدا ہوا کہ ویک نیو کلئیر فورس کی ریڈی ایشین کیا ہے؟ کیونکہ ری ایکشن کے دوران یہ پارٹیکلز کے درمیان بھی ٹرانسمٹ ہو رہی ہوتی ہے۔د یک نیوکلئیر فورس میں جو پارٹیکلز عمل پذیر ہوتے ہیں وہ پروٹان، الیکٹرون وغیرہ ہیں۔چنانچہ ۱۹۳۴ کے لگ بھگ ہی سائینس دانوں نے کہا کہ کچھ ریڈی ایشن بھاری ہو گی یعنی ہیوری پارٹیکلز انہوں نے اس کا نام W رکھا یعنی ویک اور ان کا چارج بھی ہو گا اس لئے ان کو ڈبلیو +W اور w کا نام دیا گیا۔یعنی پوزیٹو چارج اور نیگے نیو چارج۔اب سوال پیدا ہوا کہ ان کا mass ماس کیا ہے؟ یہ کتنے بھاری ہیں؟ بعض کا خیال تھا کہ وہ پروٹان جتنے بھاری ہیں یا یہ کہ وہ دو پروٹان یا تین پروٹان جتنے بھاری ہیں۔لیکن اس بات کا صحیح جواب میں نے اور وائن برگ نے دیا۔ہم نے ۱۹۶۷ء میں کہا کہ شاید و یک نیوکلیر فورس اور الیکٹریسٹی دونوں ایک ہی ہیں۔جس طرح میں نے پہلے بتایا تھا کہ کہ بجلی اور مقناطیسی قوت دونوں ایک ہی ہیں۔اسی طرح یہ دونوں قو تیں بھی ایک ہی ہیں۔چنانچہ ایک قوت کا علم حاصل کر کے