مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 209 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 209

(۲۰۹) جواب سچی بات یہ ہے کہ انہوں نے (چینیوں) اس کو شک کی نگاہ سے دیکھا تھا میں وہ پہلا شخص تھا جس نے بیان کیا کہ لیفٹ، رائیٹ ای کوالٹی کیوں واقع ہوتی ہے؟ سوال یہ بات ۱۹۵۷ء کی ہے اس بات میں کیوں اتنا عرصہ لگا کہ آپ انعام شئیر کرتے ؟ جواب ان کو انعام اسی سال دیا گیا مگر مجھے نوبل انعام اس ریسرچ کے کام کی وجہ سے نہیں دیا گیا تھا۔ہم واپس اس ریسرچ پیپر کی طرف آتے ہیں۔میں نے وہ پیپر پالی کو اکتوبر میں بھیجا جس کو اس نے پسند نہ کیا۔اس کا خیال تھا کہ بینگ اور لی دونوں غلط ہیں۔تجربات میں لیفٹ ، رائیٹ کا کوئی فرق نظر نہیں آتا۔چونکہ وہ غلط راستہ پر تھے اس لئے میں بھی غلط ڈگر پر تھا۔پروفیسر نے مجھے پیغام بھیجا کہ تمہیں میرا سلام عرض ہولیکن think of something better۔سوال دو چینی سائینسدانوں کے ساتھ آپ کو نوبل انعام کیوں نہیں دیا گیا ؟ جواب: نوبل کمیٹی کے نزدیک زیادہ ضروری یہ تھا کہ انسان اس اصول کو پر کھے بجائے اس کے کہ اس کی وضاحت پیش کرے۔یہ بات judgement کی ہے آخر انعامات امتحان کی طرح نہیں ہوتے۔آپ دروازہ پر دستک دیتے ہیں اور دوسروں سے کہتے ہیں کہ اسے کھولو۔آپ نہیں کھول سکتے۔آپ کے نزدیک ایک بات دوسری سے اہم ہے لیکن انہوں نے میرے کام کو زیادہ اہم نہ جانا اس لئے میں ان کے خلاف کوئی شکایت نہیں کر رہا۔میں صرف یہ کہ رہا ہوں کہ یہ نوبل کی اہمیت کا کام تھا انسان کو ان پانچ عقلمند اشخاص کی رائے پر رائے زنی نہیں کرنی چاہئے۔کیونکہ وہی جانتے ہیں کہ دونوں ریسرچ کے کاموں کے میرٹس کیا تھے۔میری تھیوری نے ایک نمبر اخذ کیا اور وہ سچ ثابت ہو گیا۔سوال کیا آپ کا نام اس ضمن میں لیا گیا تھا ؟ جواب نہ صرف اس سال بلکہ ۱۹۶۹ء میں بھی۔بہر حال میرا نیا کام جو قوتوں کی وحدانیت پر ہے وہ پہلے کام سے زیادہ اہمیت کا ہے بلکہ یہ نیوٹن کی دریافت کے مانند ہے جس نے کہا تھا کہ وہ قوت جو سیب کو زمین کی طرف گراتی ہے وہی قوت سیاروں کو سورج کے گرد گھومنے پر مجبور کر رہی ہے۔الیکٹر یسٹی اور میگنے نزم کو آپس میں ملانے میں اگلے دو سو سال لگ گئے۔تب کسی کو خیال آیا کہ اگر انسان ایک