مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 211 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 211

(۲۱۱) دوسری کا علم حاصل کر سکتے ہیں۔یوں ہم ڈبلیو ذرہ کا ماس معلوم کر سکتے ہیں۔جب ہم یہ معلوم کر رہے تھے تو پتہ چلا کہ اس فیملی کا ایک اور ممبر بھی ہونا چاہئے جس کو یا زیرو کہتے ہیں جس کا چارج کوئی نہ ہوگا۔یعنی یہ نیوٹرل ہو گا۔۱۹۷۳ء اور ۱۹۷۸ء میں مزید تجربات کئے گئے جن سے یہ ثابت ہو گیا کہ ہماری پیش گوئی سچ تھی۔ان ذرات کا اثر نیوٹرل کرنٹ میں دیکھا گیا کیونکہ یہ نیوٹرل پارٹیکل کے ذریعہ ٹرانسمٹ ہوتے ہیں جو کہ 2 کہلاتا ہے۔اب سوال پیدا ہوا کہ اس پارٹیکل کو کیسے بنایا جائے؟ اس پارٹیکل کو بنانے کیلئے ایسے ایکسل ریٹر کی ضرورت تھی جس کی اتنی پاور ہو کہ یہ nuclear strontium پیدا کر سکے۔جینیوا میں اس وقت یعنی ۱۹۷۹ء میں جو ایکسل ریٹر موجود تھا وہ proton mass 25 کے آب جیکٹس پیدا کر سکتا تھا مگر ہمیں نوے کی ضرورت تھی چنانچہ اس دیو قامت مشین میں ماڈی فیکیشن کی گئیں جس پر ساٹھ ملین پاؤنڈ خرچ آیا یہ بذات خود ایک ٹیکنیکل کرشمہ تھا۔اس قسم کا ایکسل ریٹر نہ امریکہ اور نہ ہی روس میں موجود تھا۔اس کی تعمیر ۱۹۷۹ء میں شروع ہوئی اور تحمیل ۱۹۸۲ء میں ہوئی۔ایکسل ریٹر پروٹان اور اینٹی پروٹان کیلئے ہے۔جنوری ۱۹۸۳ میں ان کو تجربات کے دوران نئی چیز ملی سائینسدانوں کی ٹیم کو Tens بو nine specimens ایک بلین میں سے ڈبلیو پلس اور ڈبلیو مائینس کے ملے۔تیسرے پارٹیکل یعنی زیڈ کی ابھی بھی تلاش ہے کیونکہ ہماری پیش گوئی کے مطابق ہر دس ڈبلیو کے بعد زیڈ ملے گا۔افسوس کہ انہیں ایکسل ریٹر مین ٹے نینس کیلئے بند کرنا پڑا۔اللہ تعالی کی ذات ہم پر بہت مہربان رہی ہے جب زیڈ پارٹیکل دریافت ہو جائیگا تو ہماری تھیوری مکمل طور پر سچ ثابت ہو جائیگی۔مگر موجودہ ایکسل ریٹر بھی اس کیلئے اب فٹ نہیں رہا۔اب انہوں نے جینیوا میں ایک نیا ایکسل ریٹر بنانیکا ارداہ کیا ہے جس پر ۵۰۰ ملین ڈالر خرچ آئیگا اور جسکا محیط یا گھماؤ ۲۷ کیلو میٹر ہوگا۔اور جو ۱۹۸۷ء تک تیار ہو جائیگا۔اس نئی قوت کو میں نے الیکٹرو و یک فورس کا نام دیا۔کسی نے اس کا گر یک نام بھی تجویز کیا تھا اب اگلا کام یہ ہے کہ الیکٹرو و یک فورس کو سٹرانگ نیوکلئر فورس کے ساتھ ملایا جائے۔۱۹۷۳ء میں میں