مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 205
(۲۰۵) جاوید نذیر اور ضیاء الحق۔پاکستان ٹائمنز انٹریو ۲۵ فروری ۱۹۸۳ ، ترجمہ محمد زکریا ورک یادوں کی بارات کے ۱۹۷۹ء میں جب ڈاکٹر عبد السلام کونو بل انعام ملاتو انہوں نے اپنے ساتھی سائینسدانوں سٹیون وائن برگ اور گلاشو سے نوبل انعام کی تقریب کے موقعہ پر کہا کہ وہ انعام کی رقم میں سے تعلیمی درسگا ہیں بنانے کیلئے انہیں کچھ رقم چندہ کے طور پر دیں۔ان کا حیران کن جواب اس میں انٹرویو میں پڑہئے۔سوال: وہ کون سے سب سے بڑی چیز محرک ہوئی جس سے آپ کی فزکس اور میتھ میں اس قدر دل چسپی پیدا ہوئی ؟ جواب: یہ کیمبرج یونیورسٹی تھی، جس کی فضاء میں صحیح سکالر شپ اور جو علم کے خزانے کے قریب واقع تھی جس کی وجہ سے میری دل چہی ان مضامین میں پیدا ہوئی۔دراصل مجھے تو انڈین سول سروس کا امتحان دینا تھا لیکن ۱۹۴۶ء میں یک لخت کیمبرج میں تعلیم کیلئے طلباء کے وظائف کے پیدا ہونے سے میری قسمت میں زیر دست تبدیلی آگئی۔بنیادی طور پر تو میں ایک سکالر تھا، مجھے یاد ہے میرے والد بزرگوارم بہت دور اندیش انسان تھے۔جب میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا تو وہ آئی سی ایس کے امتحانات کے پرچے کتابی صورت میں لے کر آئے۔یوں وہ مجھے اس امتحان کیلئے ذہنی طور پر تیار کر رہے تھے۔چنانچہ میں نے بی اے آنرز کیا ، اور پھر آئی سی ایس کا مقصد اچھی سی ملازمت کا حصول تھا۔خدا کے فضل سے نہ صرف میں نے ریاضی میں اول پوزیشن حاصل کی بلکہ انگلش کے مضمون میں بھی۔بی اے کے امتحان میں میں نے ۵۰۰ میں سے ۴۵۱ نمبر حاصل کئے۔لیکن جس مضمون کی وجہ سے میرے نمبر کم آئے وہ اردو کا مضمون تھا۔ریاضی میں ۳۰۰ میں ۳۰۰، انگلش میں ۱۵۰ میں سے ۱۲۱، اور اردو میں پچاس میں سے ۳۰ نمبر لئے۔چنانچہ سوال پیدا ہوا کہ میں ایم اے کیلئے کون سا مضمون لوں؟ انگلش یا کہ ریاضی؟ بہت سے لوگوں نے مشورہ دیا کہ میں انگلش کا مضمون لوں بجائے ریاضی کے۔دوسری