مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 204 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 204

(۲۰۴) سائینس کا تاج محل تاج محل سے کون واقف نہ ہو گا۔مشرق کی یہ وہ نا در المثال یادگار ہے جس نے ہر چشم فکر پر ایک نیا عکس بنایا ہے۔اور جسے دیکھنے والا خراج تحسین پیش کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔سنگ مرمر کے اس تراشہ کے دل کو چھو لینے والے حسن اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے جمال کا سر چشمہ درد عشق ہے۔جو تاج کی شکل میں مجسم ہو گیا ہے۔رابندرناتھ ٹیگور کی زبان میں تاج ايك چشم عاشق کا منجمد آنسو ہے جمال ليلى على و نور، شمع انسا ، نیت كا سر چشمه انٹرنیشنل سینٹر فار تھیور نکل فزکس (تریج) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے۔جس کا بنیادی مقصد تیسرے دنیا میں سائینسی علم کا فروغ ہے۔یہاں دنیا کے کونے کونے سے ترقی یافتہ و پسماندہ ممالک کے سائینسدان مختصر مدت کیلئے علم کی پیاس بجھانے آتے ہیں۔کچھ سیکھتے ہیں کچھ سکھاتے ہیں۔پھر نئے خیالات اور نئے رجحانات کی ہے سے سر شار ہو کر واپس لوٹ کر اپنے اپنے ممالک کی تعمیر و ترقی میں لگ جاتے ہیں۔فی الحقیقت آئی سی ٹی پی ایک اور اہ نہیں بلکہ انسانی برادری کے وحدت کے خواب کی زندہ تعبیر ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں امیر وغریب ، رنگ ونسل اور مذ ہب و قومیت کی ساری سرحد میں ختم ہو جاتی ہیں۔یہاں مسلمان عیسائی کو گلے لگاتا ہے۔گورا کالے کو خوش آمدید کہتا ہے اور اشترا کی سرمایہ دار کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔اس ادارے نے دانستہ و نا دانستہ طور پر پسماند و ممالک میں سائینسی علوم کو پھیلانے میں کیا اہم کردار ادا کیا ہے۔اسکا صحیح اندازہ تو آنے والا مؤرخ ہی کرے گا۔البتہ یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس ادارے نے پسماندہ ممالک میں سائینسی انقلاب کی ایک لہر پیدا کر دی ہے جو ہر آن بڑھتی جا رہی ہے۔تاج محل کی طرح آئی سی ٹی پی بھی ہر چشم بینا سے خراج عقیدت وصول کر رہا ہے اٹلی کے ایک شہر میں قائم اس ادارے کے جمال لیلی علم و نور شمع انسانیت کا سرچشمہ ایک دردمند کا خون جگر ہے۔چ تو یہ ہے کہ آئی سی ٹی بی ایک غمگسار دل کا منجمد لہو ہے اور وہ غمگسار دل سائینس کے اس تاج محل کے شاہ جہاں محمد عبد السلام کے علاوہ کس کا ہو سکتا ہے جو صرف کائینات کے راز سر بستہ سے سرگوشی ہی نہیں کرتے بلکہ تیسری دنیا خصوصا عالم اسلام کی حالت زار پر اشک خوں بھی رلاتے ہیں۔