مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 206 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 206

(۲۰۶) جنگ عظیم شروع ہو چکی تھی اور آئی سی ایس کا امتحان زیادہ دل لبھانے والا نہ رہا تھا۔میں نے جب ریاضی میں ایم اے کیا تو اس وقت آئی سی ایس کا امتحان شبہ میں پڑ گیا تھا۔میں آپ کو بتلاتا ہوں کہ اتفاقات کس طرح زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں۔ان دنوں خضر حیات نے کسانوں کے بچوں کیلئے تین لاکھ روپے کا فنڈ اکٹھا کیا تھا۔پانچ طالب علموں کو یہ وظائف دئے جانے تھے مجھے یہ وظیفہ امتحانات میں اچھے ریکارڈ کی وجہ سے ملا۔۲ ستمبر ۱۹۴۶ء کو مجھے کیمبرج یونیورسٹی سے تار ملا کہ اگر میں برطانیہ اکتوبر تک پہنچ جاؤں تو مجھے داخلہ مل سکتا ہے۔میں ملتان سے لا ہور آیا، یہاں سے شملہ گیا، وہاں سے دہلی گیا تین روز یوں سفر میں گزر گئے تھے ، یہاں سے میں واپس ملتان آیا اور پھر بمبئی روانہ ہو گیا تا وہاں سے بحری جہاز سے بر طانیہ روانہ ہو سکوں۔مجھے ابھی تک یاد ہے سید غلام خالق نے مجھے نصیحت کی کہ اگر میرا پیٹ سفر میں خراب ہو جائے تو ساتھ میں ایک بوتل اچار کی اور بادام روغن کی ساتھ لیتا جاؤں۔بمبئی میں اس وقت کر فیو لگا ہوا تھا میں جس ہوٹل میں ٹھہرا تھا وہاں رات گئے دروازہ پر دستک ہوئی اور ایک انگریز آرمی آفیسر نے مجھے پوچھا کہ آیا میں فوجی بھگوڑا ہوں؟ اس نے میرے کاغذات دیکھے اور میرا پیچھا چھوڑ دیا۔بحری جہاز میں ۳۰۰ برٹش فیمیلیز تھیں جن میں سے پندرہ یا ہمیں طالبعلم تھے۔اس کے ساتھ چھ سو اطالین جنگی قیدی بھی تھے۔اس وقت رنگ اور نسلی تعصب بہت زیادہ تھا۔میرے ساتھ سفر کرنیوالے طلباء میں سے مجھے ڈاکٹر فضل الرحمن اور ایس اے بینائی کے نام یاد ہیں۔جہاز پر سر ظفر اللہ خان کے بھتیجے حمید نصر اللہ بھی تھے۔پہلے ہمارا ٹھہر او نیپلز میں ہوا اور اس کے بعد لیور پول میں۔حمید نصر اللہ کو لینے کیلئے سر ظفر اللہ خان آئے ہوئے تھے ان دنوں سر ظفر اللہ نہ صرف صحت مند بھاری جثہ والے بلکہ نہایت خوبصورت بھی تھے۔جہاز سے اترنے پر اس قدر سردی تھی کہ میں کانپ رہا تھا چنانچہ سر ظفر اللہ نے بکمال محبت اور شفقت سے اپنا کوٹ میرے اوپر اوڑھ دیا۔کیونکہ ان کے پاس ایک اور اوورکوٹ بھی تھا۔یہ کوٹ اب بھی شاید میرے پاس موجود ہے۔اگلے روز میں کیمبرج پہنچ گیا یہ ۸۔اکتوبر ۱۹۴۶ء کا روز تھالیوں میں یہاں پہنچا۔یہاں کے طالبعلموں میں سے میں ان کا سٹیز تھا وہ اٹھارہ سال کے اور میں ہیں سال کا تھا۔نیز