مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 203 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 203

(۲۰۳) ہیں (یعنی قرآن کا آٹھواں حصہ) جن میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو فطرت کے مطالعہ، مدبر کرنے ، اور عقل سلیم کے صحیح استعمال پر زور دیا ہے۔تقریر کے بعد میں ہم سب لائن بنا کر آپ سے مصافحہ کرنے کیلئے کھڑے ہو گئے۔میرے ذمہ اب یہ کام تھا کہ میں نے ڈاکٹر صالح الہ دین ، سابق پروفیسر اسٹرانومی ڈی پارٹمینٹ ، عثمانیہ یو نیورسٹی کے ساتھ ائر پورٹ ڈاکٹر سلام کو لے کر جانا تھا۔ایک دم لوگوں کا جم غفیر ائیر پورٹ جانے کیلئے تیار ہو گیا ان احباب میں سے ایک عمر رسیدہ شخص نے مجھ سے کہا کہ تم جوان ہو تم ان سے ملاقات یوروپ میں جا کر بھی کر سکتے ہو۔میں بوڑھا آدمی زندگی کے دن ختم ہونے کو ہیں۔چنانچہ یہ سن کر میں کار سے باہر نکل آیا۔کاش اس بزرگ کے الفاظ سچ ثابت ہوتے۔اگر میری والدہ زور نہ دیتیں تو شاید میں ڈاکٹر سلام کی تقریر سننے سے محروم رہ جاتا اور ان کو دیکھ بھی نہ سکتا۔مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ اخبارات نے اس عظیم میٹنگ کا اعلان قبل از وقت خاطر خواہ طریق سے نہ کیا تھا۔جبکہ اس کی پلاننگ بہت پہلے سے ہو چکی تھی۔ترقی پذیر ممالک میں سائینس کے فروغ میں ڈاکٹر سلام کا انفلوئینس ان کی تحریروں، نیز ان کے یادگار مرکز آئی سی ٹی پی سے ہمیشہ ہوتا رہیگا۔گیلی لیوگیسٹ ہاؤس میں میرا قیام و طعام بہت ہی آرام دہ تھا۔مہمان نوازی میں ان لوگوں کا جواب نہیں ہے۔گیسٹ ہاؤس میں ایک میڈی ٹیشن روم ہے جس میں فلاسفی اور مذہب پر کتابوں کا مجموعہ رکھا ہوا ہے۔اس کمرہ میں ہر ہفتہ جمعہ کی نماز صحیح اسلامی روایت کے مطابق ادا کی جاتی ہے۔آئی سی ٹی پی میں انٹرنیٹ بھی زبر دست طریق سے دستیاب تھا۔اس طریق سے میرا رابطہ میرے انسٹی ٹیوٹ اور میرے سپر وائزر سے برابر برقرار رہا، جس کے ماتحت میں اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہا تھا۔یوں میں اپنی ایکسائیٹ منٹ اس سے اور دوستوں سے شیر کرتا رہا۔یہاں قیام کے دوران وطن عزیز کی یاد نے ایک روز بھی مجھے نہ ستایا۔پروفیسر سلام مرحوم نے یہاں کی اکیڈیمک کمیونٹی اور آنے والے مہمانوں کا جس طرح خیال رکھا وہ فی الحقیقت فقید المثال ہے۔خدا جانے اب وہاں کب جانا ہو؟ ---rohelakhan@yahoo۔com---