مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 194
(۱۹۴) سائینٹفک نے ایک کتاب کی صورت میں Ideals & Realities کے نام سے شائع کئے تھے اس کتاب کو میں نے اردو میں منتقل کیا، اس زمانے کی مسموم فضا میں اردو ترجمہ فوری طور پر منظر عام پر نہ آسکا۔کئی سال بعد فرنٹیر پوسٹ پہلی کیشنز لاہور نے یہ مضامین شائع کئے۔(ماخوذ از اساسی قوتوں کی یکجائی۔لاہور۱۹۹۷ ء ) ۲۰ نومبر ۲۰۰۰ء کو مشعل بکس کے زیر اہتمام لاہور کے آواری ہوٹل میں ڈاکٹر عبد السلام کی یاد میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔اس تقریب کی صدرات ایم ایچ قاضی۔وائس چانسلر پنجاب یو نیورسٹی نے کی۔مقررین میں منوچہر صاحب، شہزاد احمد ، ڈاکٹر غلام مرتضی ، ڈاکٹر پرویز ہود بھائی شامل تھے۔سٹیج سیکرٹری کے فرائض مسعود اشعر نے انجام دئے۔اس موقعہ پر ڈاکٹر انیس عالم نے اپنی تقریر میں کہا:۔ڈاکٹر عبد السلام کی وفات کو چار سال ہو گئے ہیں۔لیکن ان کا ذکر خیر کسی پبلک میٹنگ میں کم ہی ہوتا ہے۔ارباب اختیار سائینس پر زور دیتے ہوئے بھی سائینس کی دنیا کے سب سے روشن ستارے کا نام سائینس کے راہبر کے طور پر تو کیا معاون کے طور پر بھی لینے سے کتراتے ہیں۔ہر سال نو بل کمیٹی انعام تقسیم کرتی ہے اب تک ۱۲۰ کے قریب سائینس دانوں کو انعام مل چکا ہے۔لیکن ایسے نام بہت کم ہیں جن کو سائینس کی بنیادی تعمیر کے سلسلے میں انعام ملا ہو۔ایسے لوگ نیوٹن اور آئن سٹائین کی طرح ہوتے ہیں۔ڈاکٹر سلام کا نام بھی انہی عظیم المرتبت لوگوں میں سے ایک ہے۔سلام کی عظیم شخصیت ایک انجانی سازش کے تحت ڈاکٹر سلام کا نام عوام سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔جب عام آدمی کو علم نہ ہوگا کہ ڈاکٹر سلام کس مرتبہ کے شخص تھے تو ان کا احترام اور ان کا ذکر کیسے ہو سکے گا؟ ہمیں زیادہ شکایت خود پاکستان کے سائینسدانوں سے ہے جو جانتے ہیں کہ سلام کتنی عظیم شخصیت کا نام ہے۔پھر بھی وہ اپنی معلومات کو عوام الناس سے شئیر کرنے پر تیار نہیں ہیں۔پنجاب یو نیورسٹی جہاں سے انہوں نے تعلیم حاصل کی تھی آج تک ان کیلئے کسی فنکشن کا اہتمام نہیں کر سکی۔