مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 193 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 193

(195) برائے نظری طبیعات کے پہلے ڈائر یکٹر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لیں تھیں۔وہ مہینے میں ایک دو بار لندن تشریف لاتے تھے۔انہوں نے ہماری کوئی کلاس نہیں لی لیکن ان سے ایک دو بار ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔جس میں انہوں نے میری ہمت افزائی کی۔یہ دور ذراتی طبیعات میں بڑا ہنگامہ خیز تھا۔فروری ۱۹۶۴ء میں اومیگا ذرہ دریافت ہوا۔جس نے ذراتی طبیعات کی بنیادی اکائیوں یعنی کوارکوں کی نشاندہی کی تھی۔پروفیسر سلام کا کالج میں گروپ اس میدان میں بہت فعال تھا۔انہی سالوں میں انہوں نے وہ تحقیق کی جس کی بناء پر ۱۹۶۷ء میں انہوں نے اپنا مشہور عالم مقالہ پیش کیا جس میں برق مقناطیسی اور کمزور نیوکلیائی قوتوں کو یکجا کر نیکا نظریہ پیش کیا گیا تھا۔یہی نظریہ امریکی فزے سسٹ سٹیون وائن برگ نے آزادانہ طور پر وضع کیا تھا۔۱۹۷۹ء میں پروفیسر سلام کو دائن برگ اور گلاشو کے ساتھ طبیعات کا نوبل انعام دیا گیا۔اس وقت مجھے ان کے مقالات کی اہمیت کا اندازہ نہ ہو سکا تھا کیونکہ میں اپنی ڈاکٹریٹ کے مقالہ کے لکھنے میں مصروف تھا۔جو نسبتاً آسان موضوعات سے متعلق تھا۔۱۹۶۷ کے آخر میں میں نے اپنا پی ایچ ڈی کا تحقیقی کام مکمل کر لیا اور اکتوبر میں مجھے ڈگری مل گئی اور میں پاکستان واپس لوٹ آیا۔ٹریسٹ کا دورہ لیکن ذراتی طبیعات میں میری دل چسپی کی بدولت میرا رابطہ پروفیسر سلام کے ساتھ برقرار رہا۔اور میں ہر سال یا دو سال بعد انٹر نیشنل سینٹر (ٹریسٹ) میں مدعو ہوتا رہا۔میری ان سے آخری ملاقات لندن میں اگست ۱۹۹۳ء میں ہوئی۔اس ماہ انہوں نے طبیعت کے زیادہ خراب ہونے کے باعث مرکز سے علیحدگی اختیار کر لی۔اور آکسفورڈ منتقل ہو گئے۔نومبر ۱۹۹۶ میں ان کے انتقال کے بعد میرا ان سے تمیں سال کا رابطہ تمام ہوا۔وہ میرے بڑے مہربان تھے۔اور میرے تمام کیرئیر کے دوران انہوں نے مجھ سے مشفقانہ برتاؤ جاری رکھا۔۱۹۸۷-۸۵ء کے دوران مجھے ان کے بین الاقوامی مرکز میں ڈیڑھ سال کا عرصہ گزارنے کا موقعہ ملا۔اپنے قیام کے دوران میں نے ان کے مضامین جو اس سال سنگا پور کے اشاعتی ادارے ورلڈ