مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 195
(190) ڈاکٹر سلام پر لکھی گئی کتب نا پید ہیں۔ایک ہے اور وہ بھی ایک ہندوستانی مصنف نے لکھی ہے۔بھارت کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، دارالمصنفین اعظم گڑھ نے سلام کا شاندار استقبال کیا۔اور ان کو اپنے یہاں مدعو کیا مگر پاکستان کے سب سے عظیم سائینسدان کو اپنے ملک میں ایسی پذیرائی نہ ملی۔سنگا پور سے ۱۹۸۵ء میں ان کے مضامین کا مجموعہ شائع ہوا۔ساتھ ہی اس کا اردو ترجمہ ہو گیا۔پھر اس طرح کی کتاب اردو میں ہندوستان سے شائع ہوئی۔اس کا دیباچہ میں نے لکھا۔پھر شہزاد احمد نے اس کتاب کا اردو ترجمہ ارمان اور حقیقت کے عنوان سے کیا۔مگر ہم آج تک ان کی معیاری سوانح عمری اردو میں شائع نہیں کر سکے۔تمام تعصبات اور تنگ نظری کے باوجود عام آدمی فراخدل اور روادار ہے۔جس خطے میں ہم بستے ہیں وہاں مختلف النسل اور اعتقاد و ثقافت والوں کا میل جول رہا ہے۔یہاں کچھ ملاؤں اور ادھوری تعلیم والے افراد نے عوام کو تنگ نظر بنانے کی کوشش کی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سائینسی حقائق کو اپنا ئیں، سائینسی تجزیہ کو رواج دیں اور ماہرین ہمارے عوام کو باشعور بنا ئیں۔پرویز ہود بھائی نے اپنی کتاب میں یہ تاثر دیا ہے کہ مسلمانوں میں کوئی خرابی ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں۔در حقیقت ایسا نہیں ہے اصل میں پڑھے لکھوں نے اپنی ذمہ داری کو قبول نہیں کیا۔ان کے عمومی رویے سے حالات بگڑتے جارہے ہیں۔ہمارے معاشرے پر عصبتیوں اور منافرتوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ہمارا معاشرہ صدیوں سے Inclusive رہا ہے۔اب اس کو Exclusive بنایا جا رہا ہے۔ہم ڈاکٹر سلام کو اسلئے اپنانے کو تیار نہیں ہیں کہ وہ اکثریتی فرقہ سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔یہ کوتاہ نظری ہے۔ماضی کو دیکھ لیں بادشاہوں کے درباروں سے تعلق رکھنے والوں نے ہر مذہب وملت کے لوگوں کو خوش آمدید کہا ان میں سے اکثر کا تعلق آرتھوڈ کس اسلام سے نہیں تھا۔انکا نام آج بھی زندہ ہے۔سائینسی ترقی کیلئے سائینسی سوچ اپنا نا ضروری ہی نہیں بلکہ لازمی ہے۔ہم سلام کو اس طرح بھی خراج عقیدت پیش کر سکتے ہیں کہ پاکستان کو ایک پروگریسو معاشرہ بنا دیں۔انہوں نے ساری عمر عالمی امن کیلئے جد و جہد میں گزار دی۔