مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 192 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 192

(۱۹۳) ڈاکٹر انیس عالم۔شعبہ فزکس، پنجاب یونیورسٹی لاہور اقلیم سائینس کا تاجدار ہے میں نے ۱۹۶۰ء میں اسلامیہ کالج سول لائنیز لاہور میں بی ایس سی آنرز میں داخلہ لیا۔طبیعات اور ریاضی میرے پسندیدہ مضامین تھے۔یہ دور لاہور کی علمی اور ادبی تاریخ میں اچھا خاصا با رونق تھا۔ہر کالج میں مختلف مضامین کی فعال سوسائیٹیاں تھیں۔ہمارے کالج کے پرنسپل پروفیسر حمید احمد خان تھے۔شعبہ طبیعات کے سربراہ پروفیسر عبد الحمید بیگ تھے۔ان کی سربراہی میں فزکس سوسائٹی بڑی فعال تھی ہر ہفتہ، دو ہفتہ بعد کوئی نہ کوئی طبیعات دان شعبہ میں لیکچر کیلئے مدعو ہوتا تھا۔ان لیکچروں سے مجھے پہلی بار طبیعات کی باریکیوں کا احساس ہوا اور مجھ میں نظری طبیعات میں کام کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔اسلامیہ کالج میں قیام کے تین سال میں مجھے پروفیسر ریاض الدین ، ڈاکٹر اشفاق احمد ، ڈاکٹر نسیم احمد خان ، ڈاکٹر عبد الغنی، جیسے طبیعات دانوں سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔یہ سب حضرات پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے لاہور کے مرکز سے وابستہ تھے۔انہی حضرات نے میرے دل میں طبیعات کو اپنا کیرئیر بنانے کی خواہش پیدا کی۔یہ زمانہ میری ذہنی نشو ونما کیلئے بہت اہم تھا۔میں نے بے شمار کتب پڑھیں جن میں بیسویں صدی کے طبیعات کے بانیوں آئن سٹائین، پلانک، بوہر، ہائزن برگ، ڈی بروگلی، ڈائراک کے علاوہ دوسرے مشہور سائینسدانوں مادام کیوری، جیمز جینز ، ایڈ یشن کی تحریر یں بھی شامل تھیں۔جن میں ان ماہرین نے جدید طبیعات کی باریکیوں کو آسان زبان میں بتلانے کی کوشش کی ہے۔۱۹۶۴ء میں ایم ایس سی فزکس کا امتحان دینے کے بعد مجھے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کیلئے وظیفہ دیا گیا۔پروفیسر حمید احمد خان نے پروفیسر عبد السلام سے امپرئیل کالج میں رابطہ کیا اور اس طرح نومبر ۱۹۶۴ء کے پہلے ہفتہ میں پروفیسر سلام کے قائم کردہ نظری طبیعات کے شعبہ میں تعلیم کیلئے پہنچ گیا۔لیکن پروفیسر سلام اس سال انالین ساحلی شہر ٹریسٹ منتقل ہو چکے تھے۔جہاں انہوں نے بین الاقوامی مرکز