مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 190 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 190

(140) ڈاکٹر عبد السلام کو نوبیل انعام ملنے کی توقع تھی تو بر طانوی حکومت نے بار بار کوشش کی کہ وہ ان کے ملک کی شہریت حاصل کر لیں۔لیکن انہوں نے ہمیشہ جواب دیا کہ وہ اس بین الاقوامی اعزاز کو پاکستان کے نام منسوب کرنا چاہتے ہیں۔نوبل انعام ملنے کے بعد برطانوی حکومت نے انہیں مسٹر کا خطاب دینے کی پیش کش کی۔علاوہ ازیں جواہر لال نہرو نے ایک وزیر کو خصوصی طور پر برطانیہ بھیج کر انہیں بھاری شہریت اور دیگر مراعات کی پیش کش کی۔تاہم انہوں نے اپنے والد کے مشورے سے ہر پیشکش کو ٹھکرا دیا۔(جنگ ۲۳ نومبر ۱۹۹۶) ڈاکٹر سلام کے سب سے چھوٹے بھائی محمد عبد الوہاب نے نوائے وقت کو بتایا کہ ڈاکٹر سلام کی وفات سے قوم ایک بڑے سائینسدان سے ہی محروم نہیں ہوئی۔بلکہ ان کا خاندان ایک مہربان بزرگ شخصیت کے سایہ سے محروم ہو گیا ہے۔ڈاکٹر صاحب کو نوبل انعام سے جو اڑھائی لاکھ ڈالر ملے اس سے انہوں نے مستحق طلباء کیلئے فنڈ قائم کر رکھا ہے۔جس میں سے وظائف دئے جاتے ہیں۔گورنمنٹ کالج سے بہت محبت کرتے تھے۔ان کے دور میں جو چپڑاسی تھا وہ ابھی تک زندہ ہے اس سے خاص لگاؤ رکھتے تھے۔اور جب بھی پاکستان آتے اس کو گھر جا کر ضرور ملتے اور ہر ماہ اس چپڑاسی کو وظیفہ ملتا تھا جس سے اسکی مالی امداد ہوتی تھی۔(نوائے وقت ۲۲ نومبر ۱۹۹۶) پر وفیسر عبد السلام مرحوم کے پسماندگان میں دو بیگمات (امۃ الحفیظ صاحبہ لندن اور پر وفیسر ڈاکٹر لوئیس جانسن سلام، مالیکیولر بائیو فزکس، آکسفورڈ یونیورسٹی) ، دو بیٹے احمد سلام اور عمر سلام اور چار بیٹیاں ہیں۔بڑی صاحبزادی عزیزہ رحمن ( لاس اینجلز ) نے پی ایچ ڈی کیا تھا۔خود ڈاکٹر سلام دو بہنوں اور چھ بھائیوں میں سے سب سے بڑے تھے۔ایک بھائی عبد القادر ڈاکٹر ہیں اور چوہدری عبد الرشید لندن میں چارٹرڈ اکا ؤٹمینٹ ہیں۔(مؤلف کتاب کے نام ایک ای میل مورخہ ۱۰ دسمبر ۲۰۰۲، پروفیسر لوئیس سلام نے بتایا کہ عزیزم عمر سلام کیمبرج یو نیورسٹی سے ریاضی میں اپنے ڈاکٹریٹ کا مقالہ مکمل کرنے کے آخری مراحل میں ہے)۔ڈاکٹر عبدالسلام کی وفات ۲۱ نومبر ۱۹۹۶ کو آکسفورڈ میں ہوئی۔اگلے روز آپ کا جنازہ ۲۲ نومبر