مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 189 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 189

(۱۸۹) کا اظہار کرتے ہوئے بی بی سی BBC ریڈیو کو بتلایا تھا:۔یہ بات نا قابل یقین ہے کہ پروفیسر سلام کو تیسری دنیا کے اتنے لوگ جانتے ہیں۔آپ کسی بھی ترقی پذیر ملک میں جائیں۔آپ کا نام آپ گھر گھر سن سکتے ہیں۔ان کے نظریات کی ہر جگہہ قدر کی جاتی ہے۔وہ ہر جگہ موجود ہیں۔چاہے کولمبیا ہو، پاکستان ہو یا کوریا۔اب دیکھیں نہ ان کا مرکز کوریا میں ہے۔پروفیسر سلام ایسے شخص تھے جنہوں نے تیسری دنیا کے لوگوں کو عالمی سطح پر عزت اور وقار دیا۔انہوں نے طبیعات میں نمایاں کارنامے سر انجام دئے ہیں انہوں نے اس شعبہ میں جو خیالات پیش کئے وہ جدید سائینس کی بنیاد تصور کئے جاتے ہیں۔سائینسی دنیا میں ان کے تخلیقی سائینسی کارنامے دیر تک یاد رکھے جائیں گے۔(بی بی سی اردو سروس ، ۲۲ نومبر ۱۹۹۶ء صبح کی نشریات ) صدر پاکستان سردار فاروق احمد لغاری نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں ڈاکٹر صاحب کی شاندار قومی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات کو نا قابل تلافی قرار دیا تھا۔اور کہا کہ ان کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلاء مدتوں پر نہیں ہو سکے گا۔وہ مادر وطن کیلئے شہرت اور عظمت کا باعث بنے۔اور انہوں نے پاکستان کو سائینسی دنیا کے نقشے پر ایک نمایاں مقام دیا۔ان کی وفات سے قوم اپنے ایک عظیم فرزند سے محروم ہو گئی۔صدر مملکت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو یہ نا قابل تلافی صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اسی طرح نگران وزیر اعظم ملک معراج خالد نے ڈاکٹر سلام کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی سائینس کے شعبہ میں گراں قدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر سلام نے بین الاقوامی حلقوں میں مادر وطن کا نام روشن کیا تھا۔سلام کی عظمت ڈاکٹر سلام کے بھائی عبد الحمید (مرحوم) نے ایک گفتگو میں روزنامہ جنگ کو بتلایا تھا کہ ڈاکٹر عبد السلام نے ۴۲ سال برطانیہ میں رہنے کے باوجود نہ صرف وہاں کی شہریت حاصل نہ کی بلکہ جواہر لال نہرو کی جانب سے بھارتی شہریت کی پیش کش بھی ٹھکرا دی تھی۔وہ پاکستانی ہونے پر فخر کرتے تھے۔جب