مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 188
(IAA) عظیم کا رنامہ یہ ہے کہ انہوں نے سرسید کے مشن کو تمام دنیا کی تعلیمی طور پر پسماندہ اور غریب اکثریت تک پھیلا دیا ہے۔(تہذیب الاخلاق، ستمبر ۱۹۸۹) نومبر ۱۹۹۲ ء کو کویت میں TWAS کی چوتھی جنرل کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد السلام نے فرمایا تھا: ہماری اکیڈیمی ترقی پذیر ممالک میں سائینس کی ترقی اور ترویج کیلئے کام کر رہی ہے سرسید نے چنکی چنکی آٹا لے کر (علی گڑھ) کالج قائم کیا تھا میں بھی سرسید کا ایک ادنیٰ خادم ہوں۔اپنی کمائی میں سے کچھ نہ کچھ اپنی مادر د علم کو بھیجتے رہا کریں۔۱۹۶۴ء میں ڈاکٹر سلام نے ٹھوس سائینسی ترقی کا منصوبہ پیش کیا اور چاہا کہ حکومت پاکستان سر پرستی کرتے ہوئے عملی تعاون کرے۔لیکن اہل اقتدار نے اس منصو بہ کو وقت کا زیاں قرار دیا۔لیکن ڈاکٹر سلام کو اس منصوبہ کی افادیت پر یقین کامل تھا۔لہذا اقوام متحدہ، یونیسکو اور اٹلی کی حکومت کے تعاون سے آپ نے ٹریسٹ میں یہ سینٹر قائم کر دکھایا۔سب سے بڑا کارنامہ ڈاکٹر عبد السلام کے بہت سے شاندار کارناموں میں سے سب سے بڑا کارنامہ در حقیقت اس سینٹر کا قیام تھا۔قائم کرنا تو شاید آسان تھا مگر اس کو میں سال تک چلانا تو اور بھی جان جوکھوں والا کام تھا۔سینٹ کیلئے فنڈ زلانا ، ملک ملک اس ضمن میں سفر کرنا اور مختلف قومیتوں کے لوگوں کو قائل کرنا کہ وہ اس بارہ میں رقم دیں تو اور بھی مشکل کام تھا۔کئی سال تک آپ مختلف فاؤنڈیشنز کے سامنے اپنا کیس ایک کامیاب وکیل کے طور پر خود پلیڈ کرنے گئے۔اس ضمن میں فورڈ فاؤنڈیشن کا ذہن میں فوراً ابھر آتا ہے۔تیسری دنیا کے قریب اسی ہزار سائینسدان یہاں سے تعلیم حاصل کر کے اپنے اپنے ممالک میں سائنس کی تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں۔۱۹۹۴ء میں جب آپ ریٹائرڈ ہوئے تو آپ کے اعزاز میں منعقد ہو نیوالی تقریب میں دس نوبل انعام یافتگان نے شرکت کی۔اس کے علاوہ ہر رنگ، ہر نسل اور ملک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں کی تعداد میں سائینسدان موجود تھے۔مرکز کے موجودہ ڈائریکٹر پروفیسر مینگوریا ویرا سارو نے ڈاکٹر سلام کے انتقال پر گہرے رنج و غم